.jpeg?rect=0%2C0%2C460%2C259)
امیتابھ کمار داس کی فائل تصویر
تصویر نیاز عالم
سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ کمار داس کو پٹنہ پولیس نے 13 فروری کی شام حراست میں لے لیا۔ پٹنہ واقع ان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مار کر انھیں اپنی گرفت میں لیا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ امیتابھ داس گزشتہ ماہ پٹنہ میں ایک نیٹ طالبہ کی موت معاملہ پر لگاتار تبصرے کر رہے تھے۔ ان کے خلاف پٹنہ چترگپت نگر تھانے میں پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ آج انھیں حراست میں لینے کے مقصد سے چھاپہ مارنے کے لیے کئی تھانوں کی پولیس پہنچی تھی۔
Published: undefined
پولیس حراست میں لیے جانے کے بعد امیتابھ داس نے میڈیا کے سامنے جاتے ہوئے ایک بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’نشانت کمار کو بچانے کے لیے مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ میرے پاس ثبوت ہے، جو سی بی آئی کو دوں گا۔ ابھی میرے قتل کی کوشش بھی کی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’گھر سے میرے کچھ سامان ان لوگوں (پولیس ٹیم) نے رکھ لیے ہیں۔ مسلسل انہیں (حراست میں لینے گئی ٹیم کو) فون پر ہدایت آ رہی تھی کہ نشانت کمار کو بچانا ہے۔ امیتابھ داس کو گرفتار کرو۔‘‘ دراصل امیتابھ داس وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کا ذکر کر رہے تھے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ نیٹ طالبہ کی موت سے متعلق معاملہ میں امیتابھ داس نے مطالبہ کیا تھا کہ نشانت کمار کی بھی ڈی این اے جانچ کرائی جائے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سمراٹ چودھری کے حوالے سے بھی انہوں نے متنازعہ پوسٹ کیا تھا۔ اب ان پر کارروائی کی گئی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امیتابھ داس بھی جنسی استحصال کے ملزم رہ چکے ہیں۔ 2006 کے شبنم کیس میں ایک خاتون نے (جو کہ ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر کی بیٹی بتائی گئی) امیتابھ کمار داس پر ان کے ساتھ جنسی استحصال کرنے اور شادی کا جھوٹا وعدہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ امیتابھ داس اس وقت جموئی میں بی ایم پی-11 کمانڈنٹ تھے۔ الزام تھا کہ انہوں نے 9-8 سال تک ان کا جنسی استحصال کیا اور شادی کا جھوٹا وعدہ بھی کیا۔ خاتون کے مطابق انہوں نے کئی برسوں تک ان سے رابطہ رکھا اور شادی کا وعدہ کیا، لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔ حکومت نے 2018 میں انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے جبراً ریٹائر کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنا اے سی آر (ACR) اپنے اعلیٰ افسر سے نہیں لکھوایا کیونکہ ان کے نزدیک تمام اعلیٰ افسران بدعنوان ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز