قومی خبریں

منی پور میں پھر بھڑک اٹھی تشدد کی آگ، کوکی برادری کے 15 گھر نذر آتش

افسران نے بتایا کہ ہفتہ کی دیر رات مشتبہ شدت پسندوں نے چاساد گاؤں پر حملہ کیا اور کوکی برادری کے کم از کم 15 گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ آتش زنی کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)</p></div>

منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)

 

منی پور میں تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔ کامجونگ ضلع کے چاساد گاؤں میں مشتبہ شدت پسندوں نے کوکی برادری کے کم از کم 15 گھروں کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتیوں کو اپنے گھر چھوڑ کر جنگلوں اور قریبی فوجی کیمپ میں پناہ لینی پڑی۔ افسران نے اتوار (18 اکتوبر) کو یہ اطلاع دی۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز گاؤں پر ہوئی فائرنگ میں کوکی برادری کے ایک شہری کی موت ہو گئی تھی، جبکہ 4 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک دیگر واقعے میں کامجونگ ضلعی ہیڈکوارٹر میں حریف مسلح گروہوں کے حملے میں تانگکھول ناگا برادری کے 3 شہریوں کو گولیاں لگیں۔

افسران نے بتایا کہ ہفتہ کی دیر رات مشتبہ شدت پسندوں نے چاساد گاؤں پر حملہ کیا اور کوکی برادری کے کم از کم 15 گھروں کو آگ کے حوالے کر دیا۔ آتش زنی کے بعد گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ کئی دیہاتیوں نے جنگلوں اور قریبی فوجی کیمپ میں پناہ لی۔ واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

منی پور پولیس نے بیان جاری کر بتایا کہ متاثرہ علاقے میں صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے آسام رائفلز، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور کامجونگ پولیس کی مشترکہ ٹیم تعینات کی گئی ہے۔ سیکورٹی فورسز کا مقصد علاقے میں امن بحال کرنا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ افسران کے مطابق حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

منی پور کی نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کیپگین نے چاساد گاؤں میں ہوئے تشدد کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کوکی شہری کی موت پر افسوس کا اظہار کیا، زخمیوں اور بے گھر خاندانوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ کیپگین نے گھروں کو جلانے کے واقعے کو ناقابل برداشت جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ، ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کو 24 گھنٹے چوکس رہنے، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے اور واقعے کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔