جل رہا منی پور! 24 گھنٹوں میں 9 افراد کا قتل، 14 گھر نذرِ آتش
کوکی تنظیم ’کمیٹی آن ٹرائبل یونٹی‘ (سی او ٹی یو) نے کانگ پوکپی ضلع میں ہفتہ کی شام 6 بجے سے 24 گھنٹے کے بند کی اپیل کی ہے۔

شمال مشرقی ریاست منی پور میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں، جس نے ظاہر کر دیا ہے کہ منی پور میں بدامنی ہنوز قائم ہے۔ ناگا اور کوکی طبقوں کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ 14 گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ ان واقعات کے بعد کوکی اور ناگا طبقوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے اور کانگ پوکپی ضلع میں بند کا اعلان کرنا پڑا ہے۔
حکام نے ہفتہ کے روز بتایا کہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں میں ایک کوکی خاتون بھی شامل ہے، جو کامجونگ ضلع میں فائرنگ کے دوران ماری گئی۔ اس کے علاوہ کامجونگ اور کانگ پوکپی میں الگ الگ حملوں کا نشانہ بننے والے ناگا گاؤں کے محافظوں اور اخرول ضلع میں کیے گئے مہدف حملے میں پھنسنے والے ایک عام شہری کی بھی موت ہوئی ہے۔ اس تشدد کے پیش نظر کامجونگ ضلع انتظامیہ نے چساد پولیس اسٹیشن کے 400 میٹر کے دائرے میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسی دوران کوکی تنظیم ’کمیٹی آن ٹرائبل یونٹی‘ (سی او ٹی یو) نے کانگ پوکپی ضلع میں ہفتہ کی شام 6 بجے سے 24 گھنٹے کے بند کی اپیل کی۔
یہ تشدد جمعہ کی رات اس وقت بھڑک اٹھا جب چساد پولیس اسٹیشن کے قریب فائرنگ میں 42 سالہ کوکی خاتون ڈوم کھونی توتھانگ کی موت ہوگئی۔ وہ 5 بچوں کی ماں تھیں۔ پولیس کے مطابق سویلین پولیس، انڈیا ریزرو بٹالین اور بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے پولیس اسٹیشن کے قریب مبینہ طور پر غیر قانونی بنکر تعمیر کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد انہیں ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔ اس دوران نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس کے جواب میں اہلکاروں نے بھی کارروائی کی۔ الزام ہے کہ مقامی خواتین نے اس کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ پولیس نے بتایا کہ توتھانگ کی گردن کے قریب بائیں جانب سینے کے اوپری حصے میں گولی لگی اور موقع پر ہی ان کی موت ہوگئی۔
یہ واقعہ 9 اکتوبر کی شب تقریباً 9.35 بجے پیش آیا، جب چساد گاؤں کے رضاکاروں کی مبینہ طور پر منمانی گرفتاری اور حراست کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ اس قتل کے بعد آتش زنی کے واقعات پیش آئے اور مسلح گروہوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان ایک بار پھر فائرنگ شروع ہوگئی۔ تشدد کے دوران دونوں طبقات کے لوگوں کے کم از کم 14 گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ شرپسندوں نے چساد پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اس کے داخلی دروازے کے قریب بنی لکڑی کی چند دکانوں کو نقصان پہنچا۔
ہفتے کی صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ فائرنگ شروع ہوئی، جو صبح تقریباً 7 بجے تک جاری رہی۔ کوکی ویمن یونین کے ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا کہ 23 سالہ مائیکل نگام منلین ہاؤکپ کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ الزام ہے کہ یہ قتل نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (اساک مویوا)، یعنی این ایس سی این-آئی ایم اور اس کے ایسٹرن فلینک گروپ کے لوگوں نے کیا۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ مزید ایک واقعہ میں پولیس نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً 9.30 بجے کامجونگ ضلع کے ننگچو چنگڈونگ گاؤں میں ہوئے حملے میں ناگا گاؤں کے 2 محافظ ہلاک ہو گئے۔ ان کی شناخت 30 سالہ نگاچانسو ننگشین اور 50 سالہ لیشیشن ہنگیو کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ گاؤں چساد پولیس اسٹیشن سے تقریباً 17 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
اس درمیان کانگ پوکپی ضلع میں مسلح کوکی انتہا پسندوں کے ایک مشتبہ گروہ کی جانب سے ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں ناگا گاؤں کا ایک رضاکار ہلاک اور 2 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ صبح تقریباً 6 بجے امپھال-تامینگ لونگ سڑک پر مکوی اور تاپوک گاؤں کے درمیان ہوا، جو چالوا پولیس اسٹیشن سے تقریباً 15 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت تمئی سب ڈویژن کے تھالون گاؤں کے 35 سالہ ماچنگ وانگ باؤ کے طور پر کی۔ زخمیوں میں ایل پابرَم گاؤں کے 29 سالہ نہاسون اور کادی گاؤں کے 30 سالہ ماتھانگام باؤ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ناگا گاؤں کے 4 رضاکاروں کو اطلاع ملی تھی کہ مکوی گاؤں پر حملہ ہوا ہے، جس کے بعد وہ تاپون گاؤں سے مکوی کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں تاپون سے تقریباً 2 کلومیٹر دور انتظار میں بیٹھے مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ ماچنگ وانگ باؤ کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ نہاسون کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگیں، جبکہ ماتھانگام باؤ کے دونوں پیروں اور ہاتھوں پر چوٹیں آئیں۔ زخمیوں کو علاج کے لیے سیناپتی ضلع کے صدر مقام لے جایا گیا ہے۔
ایک دیگر واقعہ میں 30 سالہ سندیپ رائے کی موت ہوگئی۔ ان پر قومی شاہراہ 202 پر کونجنگ گاؤں کے قریب نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ یہ شاہراہ امپھال کو اُکھرول کے راستے ناگالینڈ سے جوڑتی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ ہفتہ کی صبح تقریباً 5.30 بجے لٹن پولیس اسٹیشن سے تقریباً 12 کلومیٹر شمال مغرب میں ہوا۔ سندیپ رائے سیناپتی ضلع کے صدر مقام کے قریب واقع تاپہو سیناپتی نیپالی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ وہ اپنی کار سے سفر کر رہے تھے، جب حملہ آوروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ پولیس نے لاش برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ بعد میں لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے امپھال کے جواہر لعل نہرو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مردہ خانے میں رکھا گیا۔ قتل کی وجہ اور اس کے ذمہ دار لوگوں کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
