قومی خبریں

بلوچستان میں باغیوں کے خلاف ’آپریشن کلین اپ‘، میجر سمیت پاکستانی فوج کے 5 جوانوں کی موت

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن کلین اپ‘ کے دوران باغیوں سے تصادم ہو گیا جس میں 7 مبینہ دہشت گرد بھی مارے گئے۔ مہلوکین کے پاس سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ باردو اور دھماکہ خیز مادہ برآمد کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بلوچستان میں سیکورٹی فورسیز کی کارروائی (فائل فوٹو)</p></div>

بلوچستان میں سیکورٹی فورسیز کی کارروائی (فائل فوٹو)

 

پاکستان میں ’بلوچستان تحریک‘ طویل عرصے سے جاری ہے۔ علیحدہ ملک کا مطالبہ کر رہے بلوچ باغیوں کو دبانے کے لیے پاکستان بھی اپنی مہم چلاتا رہا ہے۔ حالانکہ اس مہم کی وجہ سے پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن میں پاکستانی فوج کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ فوج کے مطابق آپریشن کے دوران ایک میجر سمیت 5 فوجی مارے گئے اور متعدد باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ چند مہینوں سے مسلسل فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس میں سیکورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستان میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

Published: undefined

پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسیز پبلک رلیشنس (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے برخان ضلع میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف چلائے گئے آپریشن کے دوران میجر سمیت 5 پاکستانی فوجی مارے گئے۔ آئی ایس پی آر نے بدھ کو دیر رات جاری بیان میں کہا کہ اس کارروائی کے دوران ’دہشت گردوں‘ سے تصادم ہوگیا جس میں کم سے کم 7 مبینہ دہشت گرد بھی مارے گئے۔ مہلوکین کے پاس سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ-باردو اور دھماکہ خیز بر آمد کیا گیا ہے۔

Published: undefined

یاد رہے کہ پاک فوج کی جانب سے بلوچ باغیوں کے خلاف برخان کے علاقے نوشام میں ’کلین اپ‘ آپریشن چلایا جارہا ہے۔ سال کے شروعاتی 4 ماہ میں سیکورٹی فورسیز نے بلوچستان میں کئی بڑے ’کلین اپ‘ آپریشن چلائے ہیں۔ مارچ میں آپریشن کے دوران ہرائی اور باسیما اضلاع میں کم سے کم 15 مبینہ دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ فروری میں جھاب میں چلائے گئے آپریشن کے دوران 10 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

Published: undefined

غور طلب ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا شورش زدہ صوبہ مانا جاتا ہے۔ وہاں پر طویل عرصے سے کم شدت کی بغاوت جاری ہے۔ بلوچ باغی اکثر سیکورٹی فورسیز کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستانی حکومت ان مسائل کے لیے بلوچ لبریش آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ اس سے 2 دن پہلے ہی پاکستان کے شمال مغربی علاقے کے بھیڑ بھاڑ والے بازار میں خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز سے لدے آٹو رکشہ میں دھماکہ کردیا جس میں 2 سیکورٹی اہلکار سمیت کم سے کم 9 لوگوں کی جان چلی گئی جبکہ 33 دیگر لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ واردات خیبر پختونخوا کے لکی مروت ضلع میں ہوئی۔

Published: undefined

غور طلب ہے پاکستان کا بلوچستان طویل عرصے سے کم شدت کی بغاوت اور تشدد کا سامنا کررہا ہے۔ یہاں باغی اکثر سیکورٹی فورسیز اور سرکاری ڈھانچے کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ بلوچوں کا ماننا ہے کہ بلوچستان کو 1947 کی تقسیم کے بعد ان کی مرضی کے خلاف پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان حکومت اور خاص طور سے پنجاب علاقہ پر بلوچستان کے قدرتی گیس اور معدنیات جیسے وسائل کے مبینہ استحصال کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ گروپ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ بی ایل اے اسے وسائل کی لوٹ اور بلوچ خود مختاری کے لیے خطرہ مانتا ہے۔

Published: undefined