
تصویر سوشل میڈیا
اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پیدا کر دی ہے، جہاں ایک ہی خاندان کے 5 افراد ایک کمرے میں مردہ پائے گئے ہیں اور سبھی کے گولیاں لگی ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں اشوک، ان کی اہلیہ انچیتا، والدہ ودیاوتی اور دو بیٹے کارتک اور دیو شامل ہیں۔ واقعہ سامنے آتے ہی پولیس و فورنسک ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔
Published: undefined
پولیس کے مطابق اشوک اور انچیتا کی لاشیں کمرے کے فرش پر ملی ہیں، جبکہ ودیاوتی اور دونوں بچوں کی لاشیں بستر پر پائی گئیں۔ تمام افراد کے جسموں پر گولیوں کے زخم موجود ہیں۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کے ماتھے پر گولی کے نشانات ہیں، جبکہ اشوک کے سینے پر گولی لگی ہوئی تھی۔ کمرے سے تین طمنچے بھی برآمد کیے گئے ہیں، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
Published: undefined
ابتدائی تفتیش میں پولیس کو شبہ ہے کہ اشوک نے پہلے اپنی والدہ، اہلیہ اور دونوں بیٹوں کو گولی مارنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی، تاہم اس مفروضے کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس اس زاویے سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ کہیں خاندان پر کسی قسم کا قرض، نوکری سے متعلق دباؤ، گھریلو تنازعہ یا ذہنی دباؤ تو نہیں تھا، جس کی وجہ سے ایسا انتہائی قدم اٹھایا گیا ہو۔
Published: undefined
پولیس اس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کر رہی کہ کسی بات پر شدید جھگڑا ہوا ہو اور غصے میں فائرنگ کی گئی ہو۔ ساتھ ہی اس پہلو کی بھی جانچ جاری ہے کہ کہیں کسی بیرونی شخص نے گھر میں داخل ہو کر واردات تو انجام نہیں دی۔ اہل خانہ کے کسی سے تنازعہ، لین دین یا دشمنی کے پہلوؤں پر بھی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔ قریبی علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی جا رہی ہے اور پڑوسیوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
پولیس کے مطابق اشوک نکوڑ تحصیل میں امین کے عہدے پر تعینات تھے اور انہیں اپنے والد کی وفات کے بعد متوفی کے کوٹے میں یہ ملازمت ملی تھی۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ خاندان پرسکون مزاج تھا اور کسی سے کسی قسم کا تنازعہ سامنے نہیں آیا تھا۔ پولیس نے گھر کو سیل کر کے تمام موبائل فون قبضے میں لے لیے ہیں اور پوسٹ مارٹم و فورنسک رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined