
نئی دہلی: قومی راجدھانی نئی دہلی میں بدھ کی صبح بی جے پی کے سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد کی سرکاری رہائش گاہ میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق آگ صبح تقریباً آٹھ بجے مکان کے ایک بیڈروم میں لگی، تاہم فوری اطلاع اور بروقت کارروائی کے سبب اسے پھیلنے سے پہلے ہی قابو میں کر لیا گیا۔
دہلی فائر سروس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی تین فائر ٹینڈرز موقع پر روانہ کیے گئے۔ فائر اہلکاروں نے فوری طور پر ریسکیو اور کولنگ آپریشن شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
Published: undefined
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ فائر سروس اور متعلقہ محکمے واقعے کی تفصیلی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا آگ شارٹ سرکٹ، برقی آلات یا کسی اور تکنیکی خرابی کے سبب لگی۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی وجہ سامنے آ سکے گی۔
روی شنکر پرساد لوک سبھا میں پٹنہ صاحب حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ 2000 سے 2019 تک راجیہ سبھا کے رکن رہے اور 2019 کے بعد سے لوک سبھا کے رکن ہیں۔ وہ 2016 سے 2019 اور پھر 2019 سے 2021 تک الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ مرکزی حکومت میں وہ متعدد اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
Published: undefined
یہ واقعہ قومی راجدھانی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے آتش زدگی کے متعدد واقعات کی کڑی میں ایک اور اضافہ ہے۔ اس سے قبل 6 جنوری کو آدرش نگر میں دہلی میٹرو کے اسٹاف کوارٹر کی دوسری منزل پر شدید آگ لگنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایک مرد، ایک خاتون اور ان کی دس سالہ بیٹی شامل تھی۔ اس واقعے میں ریسکیو کے دوران ایک فائر اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔
اسی طرح رواں ماہ کے آغاز میں منڈاولی کے علاقے میں ایک پانچ منزلہ عمارت کے اوپری فلور کے فلیٹ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ہیٹر میں شارٹ سرکٹ کے بعد آگ پھیلی اور بعد میں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین فائر اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined