
دہلی کی سرحدوں پر زرعی قوانین کے خلاف جاری مظاہرہ میں کسانوں نے ایک مشتبہ شخص کو پکڑا ہے۔ کسانوں نے الزام لگایا ہے کہ اس مشتبہ شخص کی کسان تحریک میں گولی چلانے کا منصوبہ تھا۔ کسانوں نے ایجنسیوں پر کسان تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
خصوصی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کسان لیڈران کچھ دیر میں پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران کسان لیڈران کوئی بڑا اعلان کر سکتے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا وہ مودی حکومت کی تجویز پر غور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا پھر اپنی تحریک کو مزید تیزی عطا کریں گے۔
یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کے ذریعہ ٹریکٹر ریلی نکالے جانے کے اعلان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’مجھے پوری امید ہے کہ کسان یوم جمہوریہ تقریب کو متاثر نہیں کریں گے۔‘‘ حکومت اور کسان لیڈروں کے درمیان بات چیت بے نتیجہ ختم ہونے پر راج ناتھ نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کسان زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں تو کچھ اس کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ان قوانین پر تفصیل سے گفتگو ہونی چاہیے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ نے زرعی قوانین پر مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا اس ملک میں کوئی آئین نہیں ہے؟ زراعت شیڈول 7 کے تحت ریاست کا سبجیکٹ ہے۔ مرکز نے پارلیمنٹ میں بغیر مباحثہ کے اسے کیوں بدلا؟ انھوں نے اسے لوک سبھا میں پاس کرایا کیونکہ ان کے وہاں زیادہ اراکین ہیں۔ راجیہ سبھا میں اسے انارکی میں پاس کیا گیا کیونکہ انھیں لگا کہ الٹا ہو سکتا ہے۔
پنجاب کی کانگریس حکومت نے زرعی قوانین کے خلاف تحریک کے دوران شہید ہوئے ریاستی کسانوں کے رشتہ داروں کو ملازمت دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں 76 کسانوں کی موت ہوئی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم دہلی کی سرحدوں پر جاری تحریک میں شہید پنجاب کے کسانوں کی فیملی کے ایک رکن کو ملازمت دیں گے۔
راکیش ٹکیت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسانوں کا مظاہرہ ’کمزور تحریک‘ نہیں ہے جسے دبا دیا جائے گا۔ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ کسانوں کا مظاہرہ اب طویل چلنے والا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے 26 جنوری کو پریڈ نکالے جانے کی بھی بات کہی۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ 26 جنوری پر دہلی کی سڑکوں پر ٹریکٹر ریلی نکلے گی اور اس کے لیے ہزاروں کی تعداد میں کسان مختلف ریاستوں سے نکل بھی پڑے ہیں۔
کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے لیڈر ایس ایس پندھیر نے مودی حکومت پر کسانوں کی بے عزتی کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے میٹنگ کے بعد میڈیا کے سامنے کہا کہ ’’وزیر محترم نے ہمیں ساڑھے تین گھنٹے انتظار کرایا۔ یہ کسانوں کی بے عزتی ہے۔ جب وہ آئے، انھوں نے حکومت کی تجویز پر غور کرنے کے لیے کہا اور میٹنگ کے عمل کو ختم کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔‘‘ حکومت کے اس رویہ سے ناراض ایس ایس پندھیر نے میڈیا کے سامنے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر حکومت کسانوں کی بات نہیں مان رہی تھی مظاہرہ بھی پرامن طریقے سے جاری رہے گا۔
کسان لیڈر شیو کمار ککّا نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ پہلے کسان لیڈروں نے زرعی قوانین کو واپس لیے جانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے کہا کہ وہ ترمیم کے لیے تیار ہیں، قانون واپس لینے کے لیے نہیں۔ وزراء نے کسان لیڈروں سے حکومت کی تجویز پر غور کرنے کے لیے کہا، لیکن ہم نے حکومت سے کہا کہ وہ ہماری تجویز پر غور کرے۔ اس کے بعد وزراء میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔
آج وگیان بھون میں حکومت کے نمائندوں اور کسانوں کے درمیان گیارہویں دور کی بات چیت ہوئی، لیکن یہ بھی بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی۔ حکومت نے کسان لیڈروں سے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ جو تجویز ان کے سامنے رکھی گئی ہے (ڈیڑھ سال تک قانون پر عارضی روک کی) اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس پر غور کیجیے اور اگر تیار ہوں تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ گویا کہ مرکزی حکومت نے صاف کر دیا کہ وہ قانون کی واپسی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آج میٹنگ ختم ہونے پر آئندہ میٹنگ کی کوئی نئی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔ کسان لیڈران نے بھی قانون واپسی سے کم پر ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کی تحریک جاری رہے گی۔ میٹنگ کے بعد کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بتایا کہ حکومت نے ڈیڑھ سال کی جگہ دو سال کے لیے زرعی قوانین کو ملتوی کر کے اس پر غور و خوض کیے جانے کی بات کہی اور کوئی دیگر تجویز پیش نہیں کی گئی۔
دہلی کے وگیان بھون میں کسانوں اور حکومت کے مابین جاری 11ویں دور کی بات چیت میں بھی کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ حکومت نے قوانین معطلی کی جو تجویز دی تھی اسے کسانوں نے نامنظور کر دیا۔ حکومت نے کسانوں سے کہا کہ وہ تجویز پر ایک مرتبہ پھر سے غور کریں۔ کسانوں نے اس کے بعد بھی یہی دہرایا کہ حکومت کی تجویز انہیں منظور نہیں ہے اور انہیں قوانین واپسی کے علاوہ کچھ بھی منظور نہیں ہے۔ حکومت اس سے پہلے قوانین میں ترمیم کی بھی تجویز پیش کر چکی ہے لیکن کسانوں نے اسے نامنظور کر دیا تھا۔
دہلی کے وگیان بھون میں کسانوں اور حکومت کے درمیان بات چیت لگاتار جاری ہے۔ کسان تنظیموں نے ایک بار پھر حکومت کی قوانین کو مؤخر کرنے کی تجویز کو نامنظور کر دیا ہے۔ کسانوں نے قوانین واپسی کے اپنے مطالبہ کو پھر دہرایا ہے۔
کسانوں کے ساتھ میٹنگ کے دوران حکومت نے اپیل کی ہے کہ کسان تنظیمیں حکومت قوامین کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے کی تجویز پر ایک مرتبہ پھر سے غور کریں۔
ابھی کھانے کا وقفہ چل رہا ہے اور کسان تنظیمیں غوروغوض میں مصروف ہیں۔ کسانوں نے اس دوران وگیان بھون میں ہی لنچ کیا۔
کسان تنظیموں اور مرکزی حکومت کے مابین 11ویں دور کی بات چیت شروع ہو گئی ہے اور یہ بات چیت دہلی کے وگیان بھون میں کی جا رہی ہے۔ قبل ازیں، حکومت کی طرف سے زرعی قوانین کو مؤخر کرنے کی جو تجویز پیش کی گئی تھی، کسانوں نے اسے ٹھکرا دیا ہے۔
کسان موچہ نے دعوی کیا ہے کہ اس تحریک میں اب تک 147 کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’اس تحریک میں لڑتے لڑتے یہ ساتھی ہم سے بچھڑے ہیں، ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘‘
وگیان بھون کی طرف روانہ ہونے سے قبل کسان لیڈر منجیت سنگھ رائے اور راجندر سنگھ نے این ڈی ٹی وی سے کہا کہ ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ تینوں قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب حکومت جھک رہی ہے، یعنی بات چیت اصل میں اب شروع ہوئی ہے۔ سنگھ نے کہا، ہم نے کل میٹنگ میں 26 جنوری کے ٹریکٹر مارچ پر غور و خوض کیا اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر حکومت ہمارا ٹریکٹر مارچ روکنا چاہتی ہے تو قوانین کو منسوخ کرے۔‘‘
آج وگیان بھون میں 12 بجے ایک مرتبہ پھر حکومت اور کسان لیڈران کی بات چیت ہونے جا رہی ہے۔ دو روز قبل حکومت نے زرعی قونین کو ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن کسانوں نے اسے نامنظور کر دیا۔ دونوں فریقین آج 11ویں دور کی بات چیت کرنے جا رہے ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے 26 جنوروی کو اتر پردیش میں ٹریکٹر ریلی نکال کر کسانوں کے مطالبات اور ان کی تحریک کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے ٹریکٹروں پر قومی پرچم لگا کر تحصیلوں تک آئیں گے اور سماجوادی پارٹی کی جانب سے منعقدہ یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شامل ہونے کے بعد ریلی نکالیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 22 Jan 2021, 9:53 AM IST