
راکیش ٹکیت
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اتوار (یکم فروری) کو لوک سبھا میں عام بجٹ 2026 پیش کیا۔ وزیر اعظم نے اس بجٹ کی تعریف کی ہے جبکہ اپوزیشن نے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔ اسی درمیان بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان اور کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا بیان سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ کسان مزدور اور دیہی ہندوستان کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔
Published: undefined
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بجٹ 27-2026 کو ملک کے کسانوں، مزدوروں، قبائلی برادریوں اور دیہی ہندوستان کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، زراعت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ، قرض کے بوجھ اور کم ہوتی آمدنی سے نبردآزما کسانوں کے لیے بجٹ میں نہ تو قرض معافی پر کوئی ٹھوس پہل کی گئی ہے اور نہ ہی کم از کم امدادی قیمت کو قانونی ضمانت دینے کا التزام کیا گیا۔ راکیش ٹکیت کے مطابق کسانوں کو اس بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن ان کی امیدیں پوری نہیں ہوئی ہیں۔
Published: undefined
راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ دیہی روزگار اور بے روزگاری کے سوال پر بھی بجٹ مایوس کن ہے۔ روزگار منصوبوں کو مضبوط کرنے، کم از کم اجرت میں اضافہ کرنے اور مزدوروں کی سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بجٹ میں کوئی واضح سمت دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ سے دیہی نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل میں اضافے کا امکان ہے۔
Published: undefined
کسان لیڈر کے مطابق قبائلی معاشرے کے بنیادی مسائل پانی، جنگل، زمین، تعلیم، صحت اور ذریعہ معاش جیسے بنیادی مسائل کو بجٹ میں ضروری ترجیح نہیں دی گئی۔ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے بجائے بجٹ کا جھکاؤ ایک بار پھر شہری اور کارپوریٹ کے مفادات کی جانب دکھائی دیتا ہے۔ کسان تنظیم کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ زمینی حقائق سے دور، اعداد و شمار اور اعلانات کا بجٹ ہے، جس میں ملک کے اَن داتا (کسان) اور محنت کش طبقے کی توقعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسان، مزدور، قبائلی اور دیہی ہندوستان کو مرکز میں رکھ کر اپنی پالیسیوں اور بجٹ کی دفعات پر نظر ثانی کرے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined