
نیہا سنگھ راٹھور / آئی اے این ایس
لکھنؤ: بھوجپوری لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے اپنے خلاف درج مقدمات اور جاری قانونی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کر رہی ہیں اور آئندہ بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات رکھتی رہیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس تفتیش میں وہ تمام تعاون فراہم کیا ہے جو ان کی ذمہ داری بنتی تھی۔
حال ہی میں آئی اے این ایس سے گفتگو میں نیہا سنگھ راٹھور نے بتایا کہ ان کا بیان درج کیا جا چکا ہے اور اب پولیس اس بیان کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بنائے گئے ماحول میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی مقدمات درج ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص محض سوال اٹھا دے یا رائے کا اظہار کر دے تو اسے قانونی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Published: undefined
گلوکارہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے اور گالیاں دی جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اظہارِ خیال کو برداشت کرنے کا دائرہ مسلسل محدود ہوتا جا رہا ہے اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
نیہا سنگھ راٹھور نے واضح کیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گی اور جو بھی حکم سپریم کورٹ کی جانب سے آئے گا، اسی کے مطابق عمل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی لڑنی پڑی تو وہ آئینی طریقے سے لڑیں گی اور اپنی بات قانون کے سامنے رکھیں گی۔
Published: undefined
یہ معاملہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ حملے کے بعد نیہا نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس شیئر کی تھیں، جن میں ایک متنازع بھوجپوری گانا بھی شامل تھا۔ الزام ہے کہ اس گانے اور پوسٹس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت کے خلاف قابلِ اعتراض تبصرے کیے گئے۔
ان ہی الزامات کی بنیاد پر لکھنؤ اور وارانسی میں ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان پوسٹس سے ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر منفی اثر پڑا اور یہ مواد پاکستان میں بھی شیئر ہوا، جہاں اسے بھارت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس سلسلے میں حضرت گنج کوتوالی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اب معاملہ تفتیش اور عدالتی عمل کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined