
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخاب کی تیاریوں کے متعلق پیر اور منگل کو اہم جائزہ اجلاس منعقد کرے گا۔ یہ میٹنگیں ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق عدالتی فیصلے کے لیے بھیجے گئے ناموں کو چھوڑ کر حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جا چکی ہے، جس کے بعد انتخابی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی میٹنگیں 2 مرحلوں میں ہوں گی، جس کی شروعات کی پیر کی صبح 11 بجے سے ہوگی۔ جہاں اس کے اعلیٰ افسران مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) منوج کمار اگروال، ایڈیشنل سی ای او، جوائنٹ سی ای او، ڈپٹی سی ای او، ضلع مجسٹریٹ (جو ضلعی الیکشن آفیسر بھی ہیں) اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کریں گے۔ اس کے بعد منگل کو میٹنگوں کا دوسرا مرحلہ ہوگا، جس میں نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران، سی ای او، ریاست کے نوڈل پولیس افسران (ایس این پی او) اور ریاست میں انتخابات کے لیے مختلف مرکزی سکیورٹی اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے کوآرڈینیٹنگ افسران ورچوئل طریقے سے شرکت کریں گے۔
Published: undefined
پیر کو ہونے والی میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی 240 کمپنیوں کی موجودہ تعیناتی کا جائزہ لے سکتے ہیں، جنہیں اتوار سے ہی ریاست میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ سی ای او کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ’’ای سی آئی کے افسران ممکنہ طور پر اس بارے میں معلومات حاصل کریں گے کہ تعینات کی گئی سی اے پی ایف کی یہ 240 کمپنیاں علاقے پر کنٹرول قائم کرنے اور ان علاقوں کی جغرافیائی صورتحال سے واقف ہونے کے لیے کس طرح استعمال کی جا رہی ہیں۔‘‘
Published: undefined
سی ای او کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ پیر کی میٹنگ میں 10 مارچ کو دوسرے مرحلے کے لیے 240 اضافی کمپنیوں کی تعیناتی پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی توقع ہے کہ کمیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ عدالتی حکام کے ذریعے تقریباً 60 لاکھ ووٹرس کی دستاویزات کے عدالتی تصفیہ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
Published: undefined
منگل کو ہونے والی میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا سی اے پی ایف کے مؤثر ترین استعمال کے لیے ریاستی اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی رقم، شراب اور منشیات کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے مختلف ریاستی اور مرکزی انٹیلی جنس-کم-انفورسمنٹ ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا اور بین الاقوامی و بین ریاستی سرحدوں سے متصل علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانا بھی شامل ہوگا۔
Published: undefined
حالانکہ پولنگ کی تاریخوں کے اعلان اور ضابطہ اخلاق کے نفاذ کو لے کر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ پولنگ کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے پہلے ہفتے میں، ہولی کے تہوار (4 مارچ) کے فوراً بعد کر دیا جائے گا۔ لیکن ووٹرس کی دستاویزات پر جاری عدالتی کارروائی کے باعث، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولنگ کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے دوسرے ہفتے میں کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined