قومی خبریں

انل امبانی سے متعلق کمپنیوں پر ای ڈی کا چھاپہ، حیدرآباد میں جانچ ایجنسی کی کارروائی سے کارپوریٹ سیکٹر میں کھلبلی

یہ جانچ بنیادی طور پر ریلائنس پاور اور اس سے منسلک کمپنیوں کے مالی لین دین سے متعلق ہے۔ افسران کو شبہ ہے کہ کارپوریٹ اداروں کے ذریعے مشتبہ مالیاتی سرگرمیاں اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>انیل امبانی / آئی اے این ایس</p></div>

انیل امبانی / آئی اے این ایس

 
MH_SM

 انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مشہور صنعت کار انل امبانی سے منسلک کمپنیوں کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور بینک فراڈ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر حیدرآباد میں کئی مقامات پر تلاشی کے لیے چھاپے مارے۔ اس کارروائی کی وجہ سے شہر کے بڑے کارپوریٹ سیکٹرز میں دن بھر افراتفری کا ماحول رہا۔ تفتیشی ایجنسی کی ٹیمیں صبح سے ہی مختلف دفاتر میں پہنچ کر مالیاتی دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کرتی رہیں۔

Published: undefined

ذرائع کے مطابق تحقیقات بنیادی طور پر ریلائنس پاور اور اس سے منسلک کچھ کمپنیوں کے مالی لین دین سے متعلق ہیں۔ ای ڈی افسران کو شبہ ہے کہ کچھ مشتبہ مالیاتی سرگرمیاں اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزیاں بعض کارپوریٹ اداروں کے ذریعے کی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے ایجنسی نے کئی دفاتر اور متعلقہ احاطوں میں چھاپے مارے اور اہم دستاویزات، کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیوز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا ضبط کر لیا۔

Published: undefined

حیدرآباد میں ریلائنس گروپ کے کارپوریٹ دفاتر بنیادی طورسے شہر کے بڑے کاروباری مراکز میں واقع بتائے جاتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر بنجارہ ہلز، مادھا پور، ہائی ٹیک سٹی اور گچی باولی جیسے علاقے شامل ہیں جہاں کئی بڑی کمپنیوں کے کارپوریٹ دفاتر اور بزنس سینٹر واقع ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کی سرگرمیوں کے بعد ان علاقوں میں موجود کارپوریٹ دفاتر اور ملازمین کے درمیان بحث تیز ہوگئی۔

Published: undefined

ذرائع کے مطابق تلاشی کے دوران کئی اہم مالیاتی ریکارڈ اور دستاویزات برآمد ہوئیں جن کی اب تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ ان دستاویزات کی بنیاد پر اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا کمپنیوں کے ذریعے رقم کی غیر قانونی منتقلی ہوئی یا منی لانڈرنگ ہوئی۔ اگرچہ ای ڈی نے ابھی تک اس کیس کی مکمل تفصیلات کا باضابطہ طور پر انکشاف نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ اگر دستاویزات میں مالی بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد ملے تو آنے والے دنوں میں مزید افراد سے پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

حیدرآباد میں اس کارروائی نے ایک بار پھر کارپوریٹ دنیا میں شفافیت اور مالی جوابدہی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined