انل امبانی پر ای ڈی کی بڑی کارروائی، ممبئی میں 3 ہزار کروڑ سے زائد قیمت کا عالیشان بنگلہ’ ابوڈ‘ قرق

ای ڈی کے اسپیشل ٹاسک فورس ہیڈکوارٹر نے یہ کارروائی انسداد منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) 2002 کے تحت کی ہے۔ اس سے قبل اسی جائیداد کا ایک حصہ، جس کی قیمت 473.17 کروڑ روپئے تھی، اٹیچ کیا جاچکا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>انیل امبانی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشہور صنعت کارانل امبانی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت ای ڈی نے ممبئی واقع انل امبانی کا عالیشان بنگلہ ’ابوڈ‘ قرق کرلیا ہے جس کی قیمت 3 ہزار 716 کروڑ روپئے بتائی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بینک فراڈ معاملے میں ای ڈی نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آر کام) کے چیئرمین انل امبالی کے گھر’ ابوڈ‘ کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت ایٹیچ کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

ممبئی کے پالی ہل علاقے میں واقع یہ شاندار بنگلہ 66 میٹراونچا ہے جس میں 17 منزلیں ہیں۔ خبروں کے مطابق پروینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت ایک پروویژنل آرڈر جاری کیا گیا ہے تاکہ ان کی گروپ کمپنی آرکام کی جانب سے بینک فراڈ سے متعلق معاملے میں کثیرمنزلہ عمارت کو اٹیچ کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی گروپ سے متعلق اب تک قرق کی گئی کل جائدادوں کی قیمت 15 ہزار 700 کروڑ روپئے سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ای ڈی کے اسپیشل ٹاسک فورس ہیڈکوارٹر نے یہ کارروائی انسداد منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) 2002 کے تحت کی ہے۔ اس سے قبل اسی جائیداد کا ایک حصہ، جس کی قیمت  473.17 کروڑ روپئے تھی، اٹیچ کیا جاچکا ہے۔


بدھ کے روز ای ڈی کی طرف سے جاری ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئی تھی۔ یہ ایف آئی آر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفاعت 120۔بی (مجرمانہ سازش)، 406 (مجرمانہ اعتماد کی خلاف ورزی) اور 420 (دھوکہ دھڑی) نیز انسداد بدعنوانی ایک 1989 کی متعلقہ دفعات کے تحت کی گئی تھی۔  اس معاملے میں ریلائنس کمیونکیشن لمیٹیڈ (آر کام)، انل امبانی اور دیگر کو ملزم بنایا گیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ آرکام اور اس کی گروپ کمپنیوں نے ملکی اور غیر ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے کافی مقدار میں قرض لیا تھا۔ ان میں سے مجموعی طور پر 40,185 کروڑ روپے کی رقم ابھی بھی باقی ہے جس میں سے کئی کھاتے این پی اے (نان پرفارمنگ ایسیٹ) بن چکے ہیں۔ جانچ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پالی ہل کی یہ جائیداد انل امبانی کے خاندان کے افراد سے منسلک ایک پرائیویٹ فیملی ٹرسٹ کو منتقل کی گئی تھی۔


تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق اس کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ انل امبانی کا اس جائداد سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ ای ڈی کا ماننا ہے کہ اس بندوبست کا مقصد جائداد کو محفوظ کرنا اور اثاثوں کو مستحکم کرکے وسائل پیدا کرنا تھا اور اسے ان انفرادی بقایاجات سے بچانا تھا جوانل امبانی نے آرکام کو دیئے گئے بینک قرضوں کے عوض ذاتی ضمانت کے طور پر لئے تھے۔

ایجنسی کے مطابق ان اثاثوں کا حقیقی استعمال اور فائدہ امبانی خاندان کے لیے تھا جب کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں کے پھنسے ہوئے قرض کا نپٹارا نہیں ہوپارہا تھا۔ اس دوران ای ڈی نے کہا ہے کہ وہ ملک کے مالیاتی نظام کی حفاظت اور عوامی فنڈز کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور منی لانڈرنگ سے منسلک اثاثوں کی نشاندہی کرکے انہیں اٹیچ کرنے کی کارروائی جارہی رہے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔