
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
کولکاتا: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انڈیا پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی پیک) کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش پر ہونے والی چھاپہ ماری کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ای ڈی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جانچ کے دوران دانستہ طور پر ایسی کارروائیاں کی گئیں جن سے تفتیشی عمل متاثر ہوا اور سرکاری کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ایجنسی نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی جانچ کی اجازت مانگی اور فوری سماعت کی درخواست بھی دی۔ ہائی کورٹ کی جسٹس سوورا گھوش نے ابتدائی سماعت کے دوران ای ڈی کو مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی اور دوپہر 2:30 بجے تفصیلی سماعت مقرر کی۔
Published: undefined
ای ڈی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھاپہ کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مبینہ طور پر کچھ اہم فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات اپنے قبضہ میں لے لئے، جس سے جانچ میں براہ راست خلل پڑا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ای ڈی نے یہ بھی استدعا کی کہ اسی معاملے سے متعلق ترنمول کانگریس کی درخواست زیر سماعت ہے، اس لیے تمام متعلقہ درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کی جائے تاکہ حقائق کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق، ای ڈی کی درخواست میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت میں یہ مؤقف رکھا گیا کہ دو مختلف مقامات پر جاری تلاشی اور ضبطی کے دوران مرکزی ایجنسی کے اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی گئی اور آئینی منصب کا مبینہ غلط استعمال ہوا۔ ادھر، چھاپہ کے دن وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ پہلے پرتیک جین کی رہائش اور پھر آئی پیک کے دفتر پہنچیں۔
Published: undefined
اسی دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ای ڈی کی کارروائی کے خلاف کولکاتا کے دو پولیس تھانوں میں شکایت درج کرائی۔ ایک شکایت شیکسپیئر سرانی پولیس اسٹیشن میں جبکہ دوسری الیکٹرانک کمپلیکس پولیس اسٹیشن میں درج ہوئی۔ تاہم، دونوں شکایتوں میں کسی ای ڈی افسر یا مرکزی مسلح پولیس فورس کے اہلکار کا نام شامل نہیں کیا گیا اور شکایت نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined