
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتہ کو آئی-پیک معاملہ میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ ای ڈی نے سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر ایجنسی کی کارروائی میں دخل دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ای ڈی نے عرضی میں کہا کہ ’’کولکاتا میں آئی-پیک کے دائریکٹر پرتیک جین کے ٹھکانوں پر چھاپے کی کارروائی کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ای ڈی کے افسران سے ضروری فائلیں، ہارڈ ڈسک اور موبائل فون چھین لیے تھے۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ ای ڈی نے اس معاملہ میں جمعہ (9 جنوری) کو کلکتہ ہائی کورٹ میں بھی عرضی داخل کی تھی، جس پر 14 جنوری کو سماعت ہوگی۔ ای ڈی نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی تحقیقات میں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کی گئی تاکہ کام متاثر ہو۔ ای ڈی کی جانب سے داخل عرضی میں معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایجنسی نے عدالت میں عرضی داخل کر اس سلسلے میں مقدمہ درج کرنے کی بھی اجازت مانگی ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ساتھ جاری کشمکش کے درمیان مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت نے بھی 10 جنوری کو سپریم کورٹ میں ’کیویٹ درخواست‘ داخل کر دی ہے۔ کیویٹ داخل کر مغربی بنگال حکومت نے سپریم کورٹ سے واضح طور پر درخواست کی ہے کہ اگر اس معاملے میں کوئی بھی درخواست یا اپیل دائر کی جاتی ہے تو ریاستی حکومت کا موقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہ کیا جائے۔ حکومت کے اس قدم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عدالت کسی بھی یکطرفہ حکم سے قبل متعلقہ فریق کو سماعت کا بھرپور موقع فراہم کرے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ای ڈی نے جمعرات (8 جنوری) کو کوئلہ گھوٹالہ کے سلسلے میں پولیٹیکل کنسلٹنسی فرم (آئی-پیک) کے ڈائریکٹر پرتیک جین کے گھر اور دفتر پر چھاپے ماری کی تھی۔ ای ڈی کی کارروائی کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ پرتیک جین کے گھر اور آفس پہنچی تھیں۔ اس دوران انہوں نے مبینہ طور پر کچھ فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات نکال کر اپنی گاڑی میں رکھوا دیں تھیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined