
ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
کولکاتا میں سیاسی کنسلٹنسی فرم انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) سے وابستہ مقامات پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ مار کارروائی کو لے کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ ای ڈی نے ترنمول کانگریس کے پارٹی دفتر سے اہم دستاویزات اٹھائیں اور سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کی۔ ان کے الزامات کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر داخلہ پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی انتخابات سے پہلے ترنمول کانگریس کی حکمت عملی، امیدواروں کی فہرست اور اندرونی منصوبہ بندی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق مرکز جان بوجھ کر ریاستی حکومت کو بدنام کرنے اور سیاسی دباؤ بنانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ کیا یہ ای ڈی یا مرکزی وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی ہارڈ ڈسک اور امیدواروں کی فہرست جمع کرے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ایسا وزیر داخلہ جو ملک کو محفوظ نہیں رکھ پا رہا، ان کی پارٹی کے تمام دستاویزات اٹھانے میں لگا ہوا ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ خود کسی دوسری پارٹی کے دفتر پر اسی طرح چھاپہ ماریں تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے تحت ووٹروں کے نام فہرستوں سے نکالے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انتخابات کے بہانے ان کی پارٹی سے متعلق تمام معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں، جو سراسر سیاسی مداخلت ہے۔
وہیں، ای ڈی نے ممتا بنرجی کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ایک پرانے معاملے میں دستیاب شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا کہ تفتیش غیر قانونی کوئلہ اسمگلنگ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق ہے، جس میں نقد رقم کی تیاری، حوالہ لین دین اور مالی راستوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مغربی بنگال میں چھ اور دہلی میں چار مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور یہ تمام جگہیں اسی کیس سے منسلک ہیں۔
Published: undefined
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے یہ بھی کہا کہ کارروائی کے دوران کسی سیاسی پارٹی کے دفتر میں داخل نہیں ہوا گیا۔ ای ڈی کے مطابق جب تک وزیر اعلیٰ بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر نہیں پہنچیں، تفتیشی عمل پرامن اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری تھا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ چھاپے کے دوران کچھ افراد، جن میں آئینی عہدوں پر فائز لوگ بھی شامل تھے، زبردستی اندر داخل ہوئے اور سرکاری دستاویزات چھیننے کی کوشش کی، جس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined