جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین کے پوتے کی کلّو میں مشتبہ حالت میں موت، پولیس تحقیقات میں مصروف
مقامی ڈی ایس پی منالی کے ڈی شرما کا کہنا ہے کہ ’’ متوفی کے جسم پر کسی بھی قسم کے بیرونی چوٹ کے نشانات نہیں پائے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔‘‘
جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین کے پوتے ویر کی ہماچل پردیش کے علاقے کلّو میں مشتبہ حالات میں موت ہوگئی ہے۔ اطلاع کے بعد سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین، ان کے بیٹے بابولال سورین اور خاندان کے دیگر ارکان شملہ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ فی الحال ویر سورین کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی پولیس نے لاش کو قبضے میں لے لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین کے پوتے ویر سورین اپنے دوستوں کے ساتھ کلّو منالی گھومنے گئے تھے۔ وہاں دوستوں کے ساتھ برف پر اسکیٹنگ کرنے کے بعد وہ اپنے ہوٹل واپس آئے تھے، جہاں ان کی طبیعت بگڑنے لگی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ دوسری جانب پوتے ویر سورین کی موت کی اطلاع کے بعد جھارکھنڈ کے سیاسی حلقوں سمیت کولہان علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الحال سابق وزیر اعلیٰ چمپئی سورین کا پورا خاندان شملہ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پیر کو ویر سورین اپنے دوستوں کے ساتھ کلّو منالی میں سولنگ نالہ اور ہامٹا اسنو پوائنٹ کی سیر کے بعد واپس ہوم اسٹے لوٹ آئے تھے۔ منگل کی صبح وہ ہوم اسٹے میں ہی رکے، جبکہ دیگر دوست گھومنے چلے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب دوست واپس لوٹے تو ویر سورین نے سر میں شدید درد ہونے کی بات بتائی۔ دوستوں نے اسے دوائی دی، جسے کھا کر ویر سو گیا۔ دوپہر ڈھائی بجے دوستوں کو ویرین کے بستر سے نیچے گرنے کی آواز سنائی دی۔ دوستوں نے جا کر دیکھا تو وہ نیچے گرے ہوئے تھے، فوری طور پر اسے سول اسپتال لے گئے، راستے میں اس کے منہ سے جھاگ بھی نکلا۔ سول اسپتال میں اسے سی پی آر دی گئی لیکن معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
سابق وزیر اعلیٰ کے پوتے کی موت کے سلسلے میں مقامی ڈی ایس پی منالی کے ڈی شرما کا کہنا ہے کہ ’’سول اسپتال منالی سے اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی تھی۔ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ سول اسپتال منالی میں متوفی ویر سورین کی لاش اسٹریچر پر پائی گئی۔ جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جسم پر کسی بھی قسم کے بیرونی چوٹ کے نشانات نہیں پائے گئے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے گا۔