
الیکشن کمیشن آف انڈیا
انتخابی عمل میں شفافیت اور رفتار بڑھانے کے مقصد سے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر عمل والی ریاستوں میں 22 نئے رول آبزرور مقرر کر دیے ہیں۔ ان تقرریوں میں سب سے زیادہ حصہ مغربی بنگال کا ہے، جہاں 11 نئے رول آبزرور تعینات کیے گئے ہیں، جس کے بعد ریاست میں رول آبزرورز کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ اس اقدام کو خصوصی گہرے جانچ کے عمل میں تاخیر پر ظاہر کی گئی تشویش کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اور خیال ہے کہ نئی تقرریوں سے عمل میں تیزی آئے گی۔
Published: undefined
الیکشن کمیشن کے مطابق رول آبزرورز کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ ایس آئی آر کا پورا عمل کمیشن کی ہدایات کے عین مطابق انجام پائے۔ مغربی بنگال میں مختلف اضلاع کے لیے سینئر افسران کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری گیا پرساد کو مرشد آباد ضلع کا سینئر رول آبزرور مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وزارت خوراکی عمل کاری کے جوائنٹ سکریٹری دیویش دیول کو مغربی میدنی پور کا چارج دیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کا مقصد فیلڈ سطح پر نگرانی کو مضبوط بنانا اور کسی بھی بے ضابطگی کو فوری طور پر دور کرنا ہے۔
Published: undefined
اسی دوران الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کے مسودے پر دعووں اور اعتراضات کی سماعت کے دوران غیر فہرست شدہ شناختی دستاویزات قبول کرنے کے معاملے پر بھی غور کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ انتخابی رجسٹریشن افسران اور معاون ووٹر رجسٹریشن افسران سے وضاحت طلب کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، کیونکہ الزام ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کمیشن کی مخصوص ہدایات کو نظرانداز کیا گیا۔
Published: undefined
کمیشن نے شناختی ثبوت کے طور پر قابل قبول 13 دستاویزات پہلے ہی طے کر رکھی تھیں اور واضح ہدایت دی تھی کہ ان کے علاوہ کسی اور دستاویز کو قبول نہ کیا جائے۔ ضلعی مجسٹریٹوں اور ضلعی انتخابی افسران کو بھی اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کرائیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق متعدد معاملات سامنے آئے ہیں جہاں غیر فہرست شدہ دستاویزات کو شناختی ثبوت کے طور پر قبول کیا گیا، جس پر کمیشن سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور ممکنہ کارروائی کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined