
پٹرول میں ایتھنول کا استعمال، علامتی تصویر، اے آئی
ترووننت پورم میں ان دنوں پٹرول کے معیار اور اس میں ایتھنول کی ملاوٹ معاملہ پر سرگرمیاں اچانک تیز ہوگئی ہیں۔ کیرلم کے وزیر برائے شہری رسد انوپ جیکب نے ریاست کے 4 اہم اضلاع میں واقع پٹرول پمپوں کی اچانک جانچ کے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ قدم پڑوسی ریاست کرناٹک کی جانب سے یہ سنگین الزام عائد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ تیل کمپنیاں ’ای 20‘ کے نام پر پٹرول میں 30 فیصد سے زائد ایتھنول ملا رہی ہیں۔
کیرلم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ابھی تک ریاست میں پٹرول کے اندر مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملائے جانے کا کوئی ٹھوس معاملہ سامنے نہیں آیا ہے، لیکن دوسری ریاست میں جاری تنازعہ کو دیکھتے ہوئے کوئی لاپروائی نہیں برتی جائے گی۔ احتیاطی قدم کے طور پر ترووننت پورم، ارناکولم، کوژیکوڈ اور کنور اضلاع کے مختلف پٹرول پمپوں سے پٹرول کے نمونے جمع کیے جائیں گے اور ان نمونوں کو جانچ کے لیے تجربہ گاہوں میں بھیجا جائے گا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عام لوگوں کو فراہم کیے جانے والے پٹرول کا معیار مقررہ پیمانوں کے مطابق ہے یا نہیں۔
اس پوری انتظامی کارروائی کے لیے 2014 کے ایک پرانے سرکاری نوٹیفکیشن کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو سنٹرل موٹر اسپرٹ اینڈ ہائی اسپیڈ ڈیزل آرڈر، 2005 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس قانونی انتظام کے تحت شہری رسد اور صارفین کے امور کے کمشنر سے لے کر تعلقہ سپلائی افسر تک تمام متعلقہ افسران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی پٹرول پمپ کا اچانک معائنہ کر سکتے ہیں۔ ریاستی وزیر انوپ جیکب نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر جانچ کے دوران کسی بھی سطح پر ملاوٹ یا قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی تو قصورواروں کے خلاف کسی رعایت کے بغیر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ یہ پورا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کرناٹک حکومت کے وزیر برائے خوراک، شہری رسد اور صارفین کے امور رضوان ارشد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ریاست میں پٹرول کے اندر ایتھنول کی مقدار مقررہ 20 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ، یعنی تقریباً 31.2 فیصد تک پائی گئی ہے۔ بنگلورو، کولار، چکبلاپور، بنگلورو دیہی، رام نگر، منگلورو اور تمکور جیسے علاقوں سے جمع کیے گئے نمونوں کی جانچ کے بعد کرناٹک حکومت نے بڑی تیل کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے فراہم کیا جانے والا ای-20 پٹرول بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کے مقررہ معیارات (آئی ایس 17021) کے عین مطابق ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: پریس ریلیز