
ہریانہ میں بی جے پی حکومت میں کانکنی مافیا بے لگا ہو گیا ہے۔ کانکنی مافیا نے ڈی ایس پی کو ڈمپر سے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈی ایس پی سریندر سنگھ غیر قانونی کانکنی روکنے گئے تھے۔ اسی دوران انھیں نشانہ بنایا گیا۔ واقعہ کے بعد موقع پر ہی ڈی ایس پی کی موت ہو گئی۔ نوح پولیس نے بتایا کہ تاوڈو (میوات) کے ڈی ایس پی سریندر سنگھ بشنوئی نوح میں غیر قانونی کانکنی کے واقعہ کی جانچ کے لیے گئے تھے، جن کا ڈمپر ڈرائیور نے کچل کر قتل کر دیا۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے تلاشی مہم جاری ہے۔
اس معاملے میں ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وِج نے کہا کہ ’’میں نے سخت کارروائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جتنی بھی پولیس لگانی پڑے، جتنی بھی فورس بلانی پڑے، چاہے آس پاس کے ضلعوں کی فورس بلانی پڑے۔ ہم پوری کارروائی کریں گے۔ کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘
ڈی ایس پی کے قتل پر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ ’’ہریانہ میں نظامِ قانون بدتر ہے۔ اراکین اسمبلی کو دھمکی دی جا رہی ہے۔ آج نہ اراکین اسمبلی محفوظ ہیں نہ ہی پولیس، تو عام آدمی کیسے محفوظ رہے گا۔ عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ حکومت کو فوراً ایسے اقدام کرنے چاہئیں جس سے عوام کا اعتماد قائم ہو۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ شرمناک ہے۔ کانکنی مافیا ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ نظامِ قانون کی حالت بگڑ رہی ہے۔ اراکین اسمبلی کو دھمکی دی جا رہی ہے، پولیس بھی محفوظ نہیں ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں جلد از جلد کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔