قومی خبریں

دیوگھر چارہ گھپلہ معاملہ: سپریم کورٹ نے لالو یادو کو دی راحت، ضمانت منسوخ کرنے سے کیا انکار

سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنا نہیں چاہتا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ اس معاملے میں ضمانت دیے جانے کے بعد تقریباً 7 برس گزر چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>لالو یادو / آئی اے این ایس</p></div>

لالو یادو / آئی اے این ایس

 

دیوگھر چارہ گھپلہ معاملے میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو سپریم کورٹ نے بڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی اس عرضی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ لالو یادو کو دی گئی ضمانت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنا نہیں چاہتا ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ اس معاملے میں ضمانت دیے جانے کے بعد تقریباً 7 برس گزر چکے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ سی بی آئی کی اپیل 2018 سے زیر التوا ہے اور اتنے طویل عرصے کے بعد ضمانت منسوخ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ’’جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے حالات کو دیکھتے ہوئے ضمانت دی تھی اور اب اتنے برسوں کے بعد اس حکم کو پلٹنا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ حالانکہ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ معاملے کا حتمی حل جلد ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے لیے سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت میں تیزی لانے اور زیر التواء اپیل کو جلد نمٹانے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران ’سی بی آئی‘ کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو نے عدالت میں دلیل پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’لالو پرساد یادو کی ضمانت عرضی پہلے بھی دو بار خارج کی جا چکی تھی۔ بعد میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے یہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی کہ انہوں نے اپنی مجموعی سزا کا 50 فیصد حصہ پورا کر لیا ہے۔‘‘

سی بی آئی کا جواز تھا کہ ہائی کورٹ نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ دیوگھر چارہ گھپلہ سمیت دیگر معاملوں میں دی گئی سزائیں ایک ساتھ چلنے والی نہیں ہیں۔ ایسے میں 50 فیصد سزا پوری ہونے کی بنیاد پر ضمانت دینا قانونی طور پر صحیح نہیں تھا۔ ایجنسی نے کہا کہ قانونی پہلو سے لاعلمی کی وجہ سے ضمانت کے حکم میں غلطی سرزد ہوئی۔ حالانکہ سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ضمانت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن سپریم کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ اتنے طویل عرصے تک ضمانت پر رہنے کے بعد صرف قانونی تشریح کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی لالو پرساد یادو کو فی الحال بڑی راحت ملی ہے اور ان کی ضمانت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ’’معاملے کی خوبی اور خامی پر حتمی فیصلہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ زیر التواء اپیل کی سماعت کے دوران لیا جائے گا۔‘‘

یہ معاملہ دیوگھر چارہ گھپلہ کے مختلف معاملوں میں سے ہی ایک معاملہ ہے۔ اس معاملے میں سرکاری خزانے سے محکمہ مویشی پروری کے ذریعہ کروڑوں روپے کی غیر قانونی نکاسی کا الزام لگایا گیا تھا۔ معاملے کی جانچ سی بی آئی نے کی تھی اور بعد میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے لالو پرساد یادو سمیت کئی ملزمین کو قصوروار قرار دیا تھا۔ اس کے بعد لالو یادو نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کی تھی، جسے سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے تازہ فیصلے کے بعد لالو پرساد یادو کی ضمانت برقرار رہے گی۔ لیکن قانونی لڑائی ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کو زیر التواء اپیل کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت دی، اور کہا کہ معاملے کا حتمی نپٹارا جلد کیا جانا چاہئے۔ اب سبھی کی نگاہیں ہائی کورٹ کی آئندہ سماعت پر ہوں گی، جہاں مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔