قومی خبریں

دہلی کی سانسوں کا حساب، پی ایم 10 آلودگی 86 دن سے مسلسل بدتر: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا 30 مئی سے مسلسل گزشتہ سال کے مقابلے میں خراب؛ آنند وہار میں اے کیو آئی 193، 235 دنوں میں 162 دن آلودگی زیادہ رہی

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / ویڈیو گریب</p></div>

اجے ماکن / ویڈیو گریب

 

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 86 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔

اجے ماکن نے اپنی ’سانس، ایس اے اے این ایس‘ سیریز کے تحت جاری تازہ پوسٹ میں کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل 86 دن بدتر رہی ہے۔ اس طرح گزشتہ رپورٹ میں درج 82 دن کا سلسلہ مزید چار دن بڑھ گیا ہے۔

ماکن کے مطابق رواں سال اب تک دستیاب 235 دنوں کے اعداد و شمار میں 162 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ ہونے والے ان اعداد و شمار سے دہلی میں فضائی آلودگی کے مستقل رجحان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

’ڈی ویدرنگ‘ یعنی موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے عمل کے ذریعے ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو الگ کیا جاتا ہے۔ ماکن کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ موسمی اثرات نکالنے کے بعد بھی اگر پی ایم 10 کی سطح مسلسل گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہتی ہے تو اس رجحان کو محض موسم کی تبدیلی سے نہیں سمجھایا جا سکتا۔

تازہ رپورٹ میں آنند وہار کی صورت حال بھی پیش کی گئی ہے۔ ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح اے کیو آئی 193 ریکارڈ کیا گیا، جو ’درمیانہ‘ زمرے میں آتا ہے۔ پوسٹ میں سی پی سی بی کے حوالے سے اس سطح کے لیے کوئی اضافی صحت سے متعلق انتباہ درج نہیں کیا گیا۔

ماکن کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13 لاکھ 63 ہزار 291 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہنے والا ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔ یہ فرق انہوں نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر برقرار رکھا ہے۔

تازہ پوسٹ میں پوری دہلی کے لیے ’خراب‘ یا اس سے بدتر اے کیو آئی ریکارڈ کرنے والے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والی آبادی صفر بتائی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایسے مانیٹروں کے اردگرد چار کلومیٹر کے دائرے میں کوئی آبادی شمار نہیں کی گئی۔

اجے ماکن نے روزانہ سامنے آنے والے فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کو عوامی بحث کا حصہ بنانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کی ’سانس‘ سیریز میں موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد گزشتہ سال کے مقابلے میں پی ایم 10 کی روزانہ صورت حال کا مسلسل موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ماکن کے مطابق 30 مئی سے جاری 86 روزہ سلسلہ دہلی میں فضائی آلودگی کے مستقل رجحان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

رپورٹ میں موازنے اور طریقۂ کار کی مکمل تفصیلات کے لیے متعلقہ رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ماکن کی تازہ پوسٹ میں سی پی سی بی کے اعداد و شمار اور موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے طریقے کی بنیاد پر دہلی کی فضائی آلودگی کے رجحان کو اجاگر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔