قومی خبریں

دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام کو عدالت سے ملی راحت، 10 دنوں کے لیے عبوری ضمانت منظور

ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت نے شرجیل امام کو 20 مارچ سے 30 مارچ تک عبوری ضمانت دی ہے۔ شرجیل کے وکیلوں نے دلیل دی تھی کہ ان کے بھائی کی جلد شادی ہونے والی ہے اور ان کی موجودگی ضروری ہے۔

شرجیل امام، تصویر آئی اے این ایس
شرجیل امام، تصویر آئی اے این ایس 

دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام کو کڑکڑڈوما کورٹ نے پیر کے روز ایک بڑی راحت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے شرجیل امام کو اپنے بھائی کی شادی میں شامل ہونے اور بیمار ماں کی دیکھ بھال کے لیے 10 دنوں کی عبوری ضمانت دی ہے۔ کئی سالوں سے قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے شرجیل امام کے لیے یہ فیصلہ بہت اہم ہے، کیونکہ وہ کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزار پائیں گے۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت نے شرجیل امام کو 20 مارچ سے 30 مارچ تک عبوری ضمانت دی ہے۔ شرجیل امام نے عدالت میں عرضی داخل کر 10 دنوں کی عبوری رِہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی طرف سے وکیلوں نے دلیل دی کہ ان کے اپنے بھائی کی جلد ہی شادی ہونے والی ہے، ایسے میں گھر والوں کے درمیان ان کی موجودگی ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی ماں کی طبیعت ناساز ہے، جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی دوسرا نہیں۔

Published: undefined

ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور گھریلو ذمہ داریوں کو دھیان میں رکھ کر عدالت نے غور و خوض کے بعد شرجیل امام کو عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اخلاقی بنیاد پر راحت دیتے ہوئے شرجیل امام کو 10 دنوں کے لیے جیل سے باہر آنے کی اجازت دی، یعنی تقریباً 10 دنوں بعد شرجیل جیل سے باہر قدم رکھیں گے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں تشدد اُس وقت پیش آیا تھا، جب 2020 میں شہری ترمیم قانون اور این آر سی کو لے کر احتجاجی مظاہرے چل رہے تھے۔ تشدد اور آگ زنی کے دوران 53 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ مشتعل لوگوں نے مرکزی حکومت کے فیصلوں، قومی شہری رجسٹر (این آر سی) اور شہری ترمیم قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ دہلی پولیس کے الزامات میں مظاہرین پر کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined