قومی خبریں

وزیر اعظم مودی کا مالویہ نگر آتشزدگی واقعہ پر اظہار افسوس، متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان

پی ایم مودی نے اعلان کیا کہ ’حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو پی ایم این آر ایف کے تحت فی کس 2-2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ساتھ ہی زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔‘

<div class="paragraphs"><p>مالویہ نگر میں واقع ریسٹورنٹ میں آتشزدگی، تصویر ’ویپن‘</p></div>

مالویہ نگر میں واقع ریسٹورنٹ میں آتشزدگی، تصویر ’ویپن‘

 

دہلی کے مالویہ نگر میں واقع ایک ریسٹورنٹ میں آج صبح شدید آتشزدگی کے سبب کم از کم 21 لوگوں کی موت ہو گئی۔ حادثے میں بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ مہم کے ذریعہ 30 سے زائد لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ اس اندوہناک حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انہوں نے لکھا کہ ’’مالویہ نگر میں آتشزدگی کے واقعہ میں لوگوں کا جاں بحق ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘

Published: undefined

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں وزیر اعظم مودی مزید لکھتے ہیں کہ ’’حادثے میں جن لوگوں نے اپنے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، ان کے تئیں میری دلی تعزیت ہے۔ ساتھ ہی میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ انتظامیہ متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔‘‘ ساتھ ہی پی ایم مودی نے اعلان کیا کہ ’’حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو پی ایم این آر ایف کے تحت فی کس 2-2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ساتھ ہی زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔‘‘

Published: undefined

وزیر داخلہ امت شاہ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مالویہ نگر میں آگ لگنے کے واقعہ سے دل انتہائی غمزدہ ہے۔ مقامی انتظامیہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے۔ اس دلخراش واقعہ میں جن لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، میری دلی تعزیت ان کے ساتھ ہے۔ خدا غمزدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘

Published: undefined

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا ’ایکس‘ پر لکھتی ہیں کہ ’’مالویہ نگر میں شدید آتشزدگی کے باعث ہونے والے شدید مالی و جانی نقصان پر مجھے انتہائی افسوس ہے۔ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں زخمیوں کی جلد صحت یابی اور اس دلخراش سانحہ سے متاثرہ تمام لوگوں کے لیے طاقت اور ہمت کی دعا کرتی ہوں۔‘‘

Published: undefined

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتی ہیں کہ ’’آگ لگنے کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی، دہلی فائر سروس، دہلی پولیس، ڈی ڈی ایم اے، سی اے ٹی ایس ایمبولینس سروس اور دیگر ہنگامی امدادی ایجنسیوں کی ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا، جنہوں نے بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ فوری کارروائی کی بدولت وہاں پھنسے کئی لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنے اور بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔‘‘ ریکھا گپتا کے مطابق دہلی حکومت صورتحال پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو تمام ضروری طبی امداد اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں، دہلی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ہم اس سانحہ سے متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Published: undefined

کانگریس رکن پارلمینٹ نے بھی اس المناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مالویہ نگر، دہلی کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت اور تقریباً 3 درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی خبر انتہائی دلخراش ہے۔ خدا جاں بحق ہونے والوں کی روح کو سکون عطا فرمائے۔ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت اور ہمدردیاں ہیں۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ کانگریس کے ساتھیوں سے میری اپیل ہے کہ براہ کرم متاثرہ لوگوں کی ہر ممکن مدد کریں۔‘‘

Published: undefined

اس درمیان آتشزدگی معاملے میں ایک حیران کن اطلاع سامنے آئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہوٹل کو دہلی حکومت کی جانب سے ’بیڈ اینڈ بریک فاسٹ‘ کانسیپٹ کے تحت لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ جس کے تحت صرف 6 کمرے چلانے کی اجازت تھی۔ حالانکہ ہوٹل میں 25 کمرے چلائے جا رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں، کچھ کمرے بیسمنٹ میں بھی بنائے گئے تھے، جس سے سیکورٹی کے معیار کو لے کر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ آگ لگنے کی وجوہات کا اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسیاں معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب، ہوٹل میں حفاظتی معیارات اور لائسنس سے متعلق قوانین کی پاسداری کو لے کر بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined