
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے عدالتی افسران کی سکیورٹی سے متعلق دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ججوں کی حفاظت کے سلسلے میں منعقد میٹنگ کی مکمل کارروائی حلف نامے کے ساتھ عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 7 جولائی مقرر کی ہے، جہاں عدالتی افسران کی سکیورٹی کے مستقبل کے نظام پر تفصیلی غور کیے جانے کا امکان ہے۔
Published: undefined
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد اس مسئلے پر متعلقہ حکام کی میٹنگ ہو چکی ہے، لیکن اس کی رپورٹ ابھی تک عدالتی ریکارڈ پر پیش نہیں کی گئی۔ اس پر عدالت نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب میٹنگ منعقد ہو چکی ہے تو اس کی مکمل تفصیلات عدالت کے سامنے آنی چاہئیں تاکہ معاملے کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
Published: undefined
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا تمام عدالتی افسران کو سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے جواب میں پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ سکیورٹی کا فیصلہ خطرے کے اندازے یعنی تھریٹ پرسیپشن کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت 12 جج ایسے ہیں جنہیں ممکنہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی شخص کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو اسے سکیورٹی دینا ضروری اور فطری بات ہے، لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمام عدالتی افسران کے لیے مستقل بنیادوں پر ذاتی سکیورٹی افسر اور اضافی حفاظتی انتظامات فراہم کیے جانے چاہئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں پالیسی سطح پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
یہ معاملہ جوڈیشیل سروس ایسوسی ایشن آف دہلی کی جانب سے دائر عرضی سے متعلق ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی کے ججوں کو ان کی رہائش گاہوں پر ذاتی سکیورٹی افسر اور اضافی حفاظتی انتظامات فراہم کیے جائیں۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ جج اکثر حساس مقدمات میں فیصلے سناتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سکیورٹی یقینی بنانا نہایت ضروری ہے۔
عدالت نے دہلی پولیس کو میٹنگ کی مکمل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ سماعت میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ عدالتی افسران کی حفاظت کے لیے مستقبل میں کس نوعیت کا مستقل نظام بنایا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined