قومی خبریں

دہلی جم خانہ کلب سے متعلق نوٹس پر دہلی ہائی کورٹ کا مرکز سے جواب طلب

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی جم خانہ کلب کے رکن اور اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دہلی جم خانہ کلب کو خالی کرانے کے لیے جاری کیے گئے ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 28 جولائی مقرر کی ہے۔

جسٹس اونیش جھنگن کی یک رکنی بنچ نے پیر کے روز اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ورچوئل ذریعے سے پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ انہیں درخواستوں کی نقول صرف ایک روز قبل موصول ہوئی ہیں، اس لیے جواب داخل کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے مرکز کو جواب داخل کرنے کی مہلت دے دی۔

Published: undefined

مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما بھی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ درخواست گزاروں کی نمائندگی سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور جینت مہتا نے کی۔ یہ درخواستیں دہلی جم خانہ کلب کے رکن وجے کھرانہ اور کلب کی اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ ان میں مرکزی حکومت کی اس کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت وہ لٹیئنز دہلی میں واقع تاریخی جم خانہ کلب کے احاطے کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مرکزی حکومت نے صفدر جنگ روڈ پر واقع کلب کے احاطے سے قبضہ واپس لینے کی کارروائی شروع کی۔ اس سلسلے میں لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے اسٹیٹ افسر نے وہاں موجود افراد کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی۔

Published: undefined

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں دہلی جم خانہ کلب کو کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے درخواستوں پر سمن جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے نوٹس پر فوری روک لگانے سے بھی انکار کیا تھا۔

گزشتہ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی شخص کو زبردستی بے دخل نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی کارروائی کی گئی تو وہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی اقدام سے قبل متعلقہ فریقین کو مناسب نوٹس دیا جائے گا۔

Published: undefined

عدالت نے اپنے سابقہ مشاہدے میں کہا تھا کہ اس وقت ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ عوامی املاک سے متعلق قانون کے تحت باضابطہ کارروائی شروع کی جا چکی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر آئندہ ایسی کارروائی ہوتی ہے تو درخواست گزار قانون کے مطابق دستیاب مناسب قانونی راستہ اختیار کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔

واضح رہے کہ دہلی جم خانہ کلب کی بنیاد 1913 میں رکھی گئی تھی اور اسے ہندوستان کے قدیم اور ممتاز سماجی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کلب کے تقریباً 5600 مستقل اراکین ہیں جبکہ رکنیت کے خواہش مند افراد کی ایک طویل انتظار فہرست بھی موجود ہے۔ کلب کی موجودہ عمارت 1930 کی دہائی کے آغاز میں معروف معمار رابرٹ ٹی رسل نے تیار کی تھی، جنہوں نے کناٹ پلیس اور اُس زمانے کے کمانڈر اِن چیف کی رہائش گاہ کا نقشہ بھی ترتیب دیا تھا۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined