مغربی بنگال: عصمت دری اور قتل کے ملزم کا پیٹ پیٹ کر قتل،11 سالہ بچی کی لاش بند بوری میں ہوئی تھی برآمد

پولیس انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ ایک لڑکی کی موت کے ملزم شخص کا مشتعل ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس محکمہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت کے معاملہ میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ماب لنچنگ کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور علاقے میں 11 سالہ معصوم بچی کا عصمت ریزی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ 11 سالہ بچی کی لاش 5 جولائی کو بر آمد کی گئی تھی۔ اس تعلق سے تازہ ترین جانکاری کے مطابق مشتعل ہجوم نے عصمت ریزی اور قتل کے ملزم ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا ہے۔ خبر رساں یجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سوریہ پور ہاٹ علاقے میں ایک لڑکی کی لاش بوری میں ملی تھی۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور باروئی جے نگر سڑک کو جام کر دیا۔ مشتعل ہجوم نے ٹائر جلائے اور کچھ پولیس کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ مظاہرین ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پریزیڈنسی رینج کے پولیس انسپکٹر جنرل کانکر پرساد بروئی نے بتایا کہ ایک لڑکی کی موت میں شامل ہونے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کی موت کے معاملے میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سوویندو ادھیکاری نے لڑکی کے والد سے فون پر بات کی اور انہیں بھروسہ دلایا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور انہیں قانون کے مطابق سزا بھی ملے گی۔


مظاہرین سے سڑک جام ہٹانے کی اپیل کرتے ہوئے پولیس انسپکٹر جنرل بروئی نے کہا کہ جرم سے وابستہ سبھی لوگوں کو گرفتار کیا  جائے گا اور مقدمے کے بعد انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سوویندو ادھیکاری نے مجھے فون کیا اور کہا ہے کہ سبھی قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں سزا دی جائے گی۔ بروئی نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل کے روز مقتول بچی کے والدین سے ملاقات کریں گے اور انہیں مدد کی یقین دہانی کرائیں گے۔ پولیس انسپکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ اس کے بعد مظاہرین نے جام ختم کیا اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ سیاسی تعلقات تفتیش کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ بی جے پی خواتین کے تحفظ کا وعدہ کر کے بنگال میں آئی تھی۔ اس کے باوجود اس قسم کے واقعات اس کے کھوکھلے وعدوں پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔