
اروند کیجریوال / ویڈیو گریب
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو انتخاب لڑنے سے نااہل قرار دینے اور عام آدمی پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ کرنے کی مانگ والی مفاد عامہ عرضی خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ عرضی میں لگائے گئے الزامات قانونی بنیادوں پر مضبوط نہیں ہیں، اس لیے اس معاملے میں کسی طرح کا حکم جاری کرنے کا جواز نہیں بنتا۔
Published: undefined
چیف جسٹس دیویندر اپادھیائے کی بنچ نے سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا عدالت الیکشن کمیشن کو کسی سیاسی جماعت کا رجسٹریشن ختم کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ عدالت نے دریافت کیا کہ کیا قانون میں کسی سیاسی جماعت کو رجسٹریشن سے محروم کرنے کا واضح انتظام موجود ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟
عرضی گزار کے وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون میں کسی سیاسی جماعت کو براہ راست رجسٹریشن سے خارج کرنے کا واضح انتظام نہیں ہے، تاہم سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں تین غیر معمولی حالات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں کسی سیاسی جماعت کا رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ وکیل نے عدالت کو ان استثنائی حالات سے آگاہ کیا۔
Published: undefined
اس پر عدالت نے کہا کہ پہلے دو حالات اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتے۔ عدالت نے مزید کہا کہ تیسری صورت یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا رجسٹریشن اسی وقت ختم کیا جا سکتا ہے جب اسے غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون یا کسی اسی نوعیت کے قانون کے تحت غیر قانونی تنظیم قرار دیا گیا ہو۔
وکیل نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 29 اے (5) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو رجسٹریشن کے وقت تحریری طور پر آئین اور اس کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے کا وعدہ کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جماعت ان اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف کارروائی یا رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
وکیل نے جسٹس سورن کانتا شرما کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا لیکن عدالت نے کہا کہ صرف کسی فیصلے کا ذکر کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ضروری ہے کہ قانون کے تحت عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کو ایسی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی سیاسی رہنما نے عدالت کے خلاف بیان دیا ہے تو اس کے لیے توہین عدالت کی الگ قانونی کارروائی موجود ہے۔ صرف اس بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کا رجسٹریشن ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی رہنما کو انتخاب لڑنے سے روکا جا سکتا۔
عدالت نے آخر میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کے رجسٹریشن سے متعلق مکمل قانونی طریقہ کار پہلے سے طے ہے اور موجودہ عرضی اسی قانونی نظام کو درست طور پر سمجھے بغیر دائر کی گئی ہے۔
Published: undefined