قومی خبریں

ستیہ نکیتن حادثہ: متصل عمارت گرانے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کا جلد سماعت سے انکار

دہلی ہائی کورٹ نے ستیہ نکیتن میں منہدم ہوئی پی جی عمارت سے متصل بلڈنگ کو ملبہ ہٹائے بغیر گرائے جانے کے خلاف عرضی پر جلد سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت دیگر عرضی پر نوٹس جاری کر چکی ہے

<div class="paragraphs"><p>دہلی کے ستیہ نکیتن میں وہ مقام جہاں عمارت منہدم ہوئی /&nbsp; ٍقومی آواز / وپن</p></div>

دہلی کے ستیہ نکیتن میں وہ مقام جہاں عمارت منہدم ہوئی /  ٍقومی آواز / وپن

 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ستیہ نکیتن میں ایک پی جی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد اس سے متصل عمارت کو دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی جانب سے مبینہ طور پر ملبہ ہٹائے بغیر منہدم کیے جانے کے معاملے میں فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ پہلے اپنی درخواست باقاعدہ طور پر داخل کرے، جس کے بعد اسے ضابطے کے مطابق سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے نے درخواست گزار سے اس دعوے کے ماخذ کے بارے میں سوال کیا کہ ایم سی ڈی نے ملبہ ہٹائے بغیر متصل عمارت کو منہدم کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ حکام نے عمارت منہدم کرنے سے پہلے یقینی طور پر کوئی تکنیکی جانچ یا آڈٹ کیا ہوگا۔

درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ متصل عمارت کو منہدم کرنے سے پہلے یہ مناسب طور پر جانچ نہیں کی گئی کہ آیا منہدم شدہ عمارت کے ملبے کے اندر کوئی شخص اب بھی پھنسا ہوا ہے یا نہیں۔ درخواست گزار نے اس معاملے میں فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے معمول کے طریقۂ کار کے تحت درخواست دائر کرنے کی ہدایت دی۔

یہ معاملہ ستیہ نکیتن میں 6 ستمبر کو پیش آنے والے اس المناک حادثے سے متعلق ہے، جس میں ایک عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی۔ حادثے کے بعد قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، دہلی پولیس، فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ صحت کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر راحت اور بچاؤ کا آپریشن شروع کیا تھا۔ ملبے سے متعدد افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اس حادثے میں 7 افراد کی موت ہوئی تھی، جن میں زیادہ تر طلبہ شامل تھے۔ ستیہ نکیتن دہلی یونیورسٹی کے متعدد کالجوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے طلبہ کے رہائشی علاقے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

اس سے قبل 9 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے دہلی یونیورسٹی کے کالجوں میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق ایک مفاد عامہ کی عرضی پر مرکز، دہلی یونیورسٹی اور دہلی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ اس پی آئی ایل میں متعلقہ حکام کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے زیر انتظام تمام کالجوں میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کی مناسب سہولت یقینی بنائی جائے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ طلبہ کو محفوظ اور مناسب رہائش فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ انہیں غیر محفوظ نجی پی جی اور ہاسٹل میں رہنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ ستیہ نکیتن حادثے کے پس منظر میں طلبہ کی رہائش، عمارتوں کی حفاظت اور متعلقہ حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔