بنگال میں دُرگا پوجا کس طرح ہو، یہ کون طے کرے گا؟... دیپائن بنرجی

مچھلی اور گوشت کو ’پاکھنڈ‘ بتانے والے باگیشور بابا کے بیان اور وی ایچ پی کی شاستروں کا حوالہ دے کر عائد کردہ پابندیوں نے بنگال کی خوشحال ثقافتی آزادی پر براہ راست حملہ کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>  درگا پوجا کی تیاری</p></div>
i

ستمبر کے آغاز میں مدھیہ پردیش کے چھترپور واقع باگیشور دھام کے 30 سالہ پیٹھادھیشور اور بی جے پی سے قریبی تعلق رکھنے والے دھیریندر کرشن شاستری عرف باگیشور بابا نے مغربی بنگال کا دورہ کیا۔ میڈیا میں اس کی خوب تشہیر ہوئی۔ وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹری ان سے ملاقات کے لیے پہنچے، سر جھکایا، ان کے ساتھ کھانا کھایا اور یہاں تک کہ ریاست میں ایک مندر قائم کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ ہاوڑہ میں منعقدہ ’ہنومنت کتھا‘ کے دوران شاستری نے یہ کہہ کر تنازعہ کھڑا کر دیا کہ درگا پوجا کے دوران مچھلی اور گوشت کھانے والے ہندو ’منافق‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اس بات سے تکلیف پہنچتی ہے کہ نوراتری اور درگا پوجا کے دوران پنڈالوں کے پیچھے ’گندہ کھانا‘ پکایا جاتا ہے۔‘‘

اس تبصرے پر فطری طور پر بڑا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا۔ سوشل میڈیا میمز اور طنز و مزاح سے بھر گیا اور اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی سخت مذمت کی۔ بنگال میں پوجا کے دوران گوشت اور مچھلی کا استعمال صدیوں پرانی روایت ہے۔ کئی اشرافیہ خاندانوں، قدیم مندروں اور مقامی اجتماعی پوجا کی تقریبات میں ’شاکت‘ طریقۂ عبادت کے تحت دیوی کو ’پرساد‘ کے طور پر بکرے کا گوشت اور مچھلی کا بھوگ لگایا جاتا ہے۔


پڑوسی ریاست بہار کے میتھل برہمنوں کی طرح ’اسمارت‘ (اسمرتی کے رسوم و احکام پر عمل کرنے والے گھریلو افراد) بنگالی برہمن خاندانوں کی اکثریت بھی گوشت خور رہی ہے (شمالی ہندوستان میں تو عام طور پر اسمارت خاندان بھی بنیادی طور پر سبزی خور ہوتے ہیں)۔ چیتنیہ مہاپربھو کے 16ویں صدی کے ہم عصر رگھونندن کی تصنیف ’اشٹا ومشتی تتو‘ (28 رسوماتی مجموعے) اسمرتی شاستروں کی ایک خالص بنگالی تشریح ہے، جس کے احکام پر آج بھی روایتی خاندانوں میں عمل کیا جاتا ہے۔ رگھونندن کی یہ لازوال تصنیف ’دیشاچار‘ (علاقائی رسوم و رواج/مقامی روایت) کو مکمل تسلیم کرتی ہے، جو ’دُرگا اتسو‘ سمیت دیگر مذہبی تہواروں میں گوشت اور مچھلی کے استعمال اور انہیں بھوگ لگانے کی اجازت دیتی ہے۔ رگھونندن نے 28 مجموعوں میں سے ایک ’درگا اتسو‘ کے لیے مخصوص کیا ہے، جسے ’دُرگوتسو تتو‘ کہا جاتا ہے۔ البتہ ویشنو گھرانوں میں مچھلی کا بھوگ نہ لگانے کی روایت رہی ہے، اور کچھ ویشنو بنیک (تاجر) خاندانوں میں درگا مہیشاسور مردنی کے روپ میں نہیں بلکہ اپنے شوہر شیو اور بچوں کے ساتھ گھریلو شکل میں براجمان ہوتی ہیں۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اسے دوسروں کے لیے اپنی روایت بدلنی ہوگی، سب بغیر کسی ٹکراؤ کے ساتھ ساتھ رہتے رہے۔

اس طرح کے فرمان جاری کرنے والے صرف دھریندر شاستری ہی نہیں ہیں۔ کچھ دن پہلے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے نرگنانند برہماچاری نے بھی ایسی ہی بات کہی تھی۔ انہوں نے منتظمین سے پنڈال احاطے میں ایسی چیزوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ وی ایچ پی نے پوجا کمیٹیوں سے جدید فنکارانہ تجربات کے بجائے مورتیاں بنانے میں ’شاستر کے مطابق‘ قواعد پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل بھی کی، اور خبردار کیا کہ پنڈالوں کو شاستروں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے منمانے تجربات نہیں کرنے چاہئیں۔ اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتظامی کمیٹیوں میں صرف ’سناتنی ہندو‘ ہونے چاہئیں۔ اس طرح وی ایچ پی نے اس مقامی عقیدے کو نشانہ بنایا جو مانتا ہے کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے، جبکہ تہوار مشترکہ ورثہ ہیں۔


درگا پوجا بنگالی سماجی و ثقافتی کیلنڈر کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پنڈالوں میں امنڈ آتے ہیں، اور فن کاروں اور دست کاروں کے لیے یہ ’ساروجنین‘ (عوامی) تہوار اپنی صلاحیت دکھانے کا بے مثال پلیٹ فارم ہوتا ہے۔ مورتیاں، شاندار پنڈال، روشنی کی سجاوٹ... سب گویا ان کے لیے ایک کھلا کینوس ہیں۔ فن کار اور فائن آرٹس کے طلبا کئی ماہ تک پوجا کے منصوبوں پر پسینہ بہاتے ہیں۔ اکثر ان کے ان فن پاروں میں شدید سیاسی تشویشیں جھلکتی ہیں۔ ان کے موضوعات انتہائی متنوع ہوتے ہیں۔ یہ سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہرے ہو سکتے ہیں، فلسطین میں نسل کشی ہو سکتی ہے، یا پھر کسان تحریک... لیکن تقریباً ہر بار ان کا سیاسی لہجہ ترقی پسند اور جمہوری ہوتا ہے۔ لہٰذا فنکارانہ آزادی نہ لینے کا وی ایچ پی کا یہ فرمان دراصل ایک پیشگی انتباہ جیسا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ فن پارے موجودہ حکومت کو بے آرام نہ کر دیں۔

جب مخالفت بڑھ گئی تو وی ایچ پی اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی اور وضاحت کی کہ وہ گوشت خور کھانے پر کوئی پابندی نہیں لگا رہی، بلکہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ کھانے کے اسٹال پنڈالوں کے باہر ہوں۔ ویسے بھی کھانے پینے کے اسٹال کبھی پنڈال کے مرکزی حصے کے اندر نہیں لگائے جاتے۔ دونوں معاملات میں بی جے پی نے حکمت عملی کے تحت خود کو الگ دکھانے کی کوشش کی، لیکن لوگ اس فریب میں آنے والے نہیں ہیں۔


کیا یہ سنگھ پریوار کے لیے نئی زمین پر ابتدائی بے آرامی بھر ہے، یا ہم کسی گہری نظریاتی تبدیلی کے گواہ بن رہے ہیں؟ کیا ہندوتوا کے اندر ان معاشروں کو بھی زیر کرنے کی صلاحیت ہے، جن کے عقائد اور روزمرہ زندگی آر ایس ایس کے روایتی قلعوں سے بالکل مختلف ہیں؟ کچھ سال پہلے جب میں بنگال میں سنگھ پریوار کے اثر و رسوخ کو شکل لیتے ہوئے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، تب یہ سوال میرے ذہن میں بار بار گونج رہے تھے۔

کولکاتا میں شیام بازار کے 5 رخی چوراہے سے کچھ ہی دور واقع وی ایچ پی کا دفتر پرانے طرز کا احساس دلاتا ہے۔ 2019 میں جب میں وہاں مشرقی خطے کے انچارج سچیندر ناتھ سنہا سے ملنے گیا تو ایک بات نے میری توجہ کھینچی: دیواروں پر لگی تصویروں میں جہاں رام، وویکانند، شنکراچاریہ کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے تنظیمی رہنماؤں کی تصاویر تھیں، وہیں کالی کی ایک بھی تصویر نہیں تھی۔ جبکہ بنگال میں ماں کالی ہر جگہ رچی بسی ہیں۔ تاریخی کالی گھاٹ مندر سے لے کر محلوں کے چھوٹے مندروں اور شکتی پیٹھوں تک، وہ ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ دیوی، جو گوشت اور مدرا قبول کرتی ہیں، اور جنہیں روایتی طور پر شیو کے سینے پر پیر رکھے، زبان نکالے ہوئے دیکھا جاتا ہے، دراصل قدیم سانکھیہ روایت کی یاد دلاتی ہیں، جس کی جڑیں بنگال کی مٹی میں گہری ہیں۔


میں نے سنہا سے پوچھا کہ کیا بنگال کے سماجی تانے بانے کے مطابق اپنے طور طریقوں کو بدلے بغیر وہ اس ریاست میں توسیع کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟ جواب میں انہوں نے بتایا کہ رام نومی کے جلوس کیسے بڑے ہوتے جا رہے ہیں، ان کی تنظیم کیسے پھیل رہی ہے، اور وہ کس طرح تمام مذہبی اداروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔ جب میں نے مزید کرید کی تو وہ صرف چیتنیہ مہاپربھو کے بنگال سے اڈیشہ کے ایک سفر کا ہی ذکر کر سکے۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ہندو مذہب کا ان کا یہ برانڈ عام بنگالی ہندو کے عقیدے، مذہبی عمل اور روزمرہ زندگی سے براہ راست متصادم ہے۔

حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اب بھی اس سے سبق نہیں سیکھ سکے ہیں۔ شمالی ہندوستان کے کھانے پینے کے طور طریقوں کو مسلط کرنے کی یہ کوشش بنگال کی ’شاکت وراثت‘ سے ٹکراتی ہے۔ یہ اس تنظیم کی سمجھ کی کھوکھلے پن یا ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتی ہے جو اس زمین کی زبان نہ تو بول سکتی ہے اور نہ ہی بولنا چاہتی ہے جسے وہ فتح کرنا چاہتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟


اس کا جواب شاید ہندو مذہب کی اس کثرت پسند تاریخ میں پوشیدہ ہے جہاں شیو، شاکت اور ویشنو روایات ساتھ ساتھ پروان چڑھیں اور ایک دوسرے سے ٹکرائیں بھی۔ ہندوستانی مذہبی فرقوں کی تاریخ (چاہے وہ بدھ، جین یا آجیواک جیسی غیر ویدک روایات کے درمیان کی ہو، یا خود ہندو مذہب کے مختلف فرقوں کی) مسلسل نظریاتی مباحث اور مکالموں کی تاریخ رہی ہے۔

اگر ہندوستانی مذہبی تاریخ کے مرکز میں ذات پات کی کشمکش رہی ہے تو عقیدے اور یقین کی شکلوں کو لے کر ہونے والی بحثیں بھی کم اہم نہیں تھیں۔ ابراہیمی مذاہب کے برعکس، ہندوستانی روایات نے کبھی کسی ایک اعلیٰ مذہبی پیشوا یا ایک مقدس کتاب کی اجارہ داری کو تسلیم نہیں کیا۔ تاریخی حالات سے تشکیل پانے والے مختلف مذہبی فرقے اور فلسفیانہ افکار الگ الگ ادوار اور مقامات پر پروان چڑھے، جس نے ہمارے ماضی کو منفرد طور پر استدلال پسند بنایا۔


سنگھ شمالی اور مغربی ہندوستان کے رنگ میں رنگے اس بنیا-ویشنو سانچے کو، جس میں جین مذہب کے پاکیزگی کے تصورات بھی شامل ہیں، ہندو مذہب کی واحد جائز شکل کے طور پر مسلط کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس سانچے کو پورے ہندوستان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ آج بنگال میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کوئی ابتدائی رکاوٹ بھر نہیں ہے، یہ ایک اجنبی اور بیرونی ثقافت کو مسلط کرنے کی منظم کوشش ہے۔ اگر سنگھ ہندو مذہب کے حوالے سے اپنے تنگ نظریے کو علاقائی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے بنگال میں موجودہ عوامی غصے سے بھی بدتر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیکن مجھے اس بات پر گہرا شبہ ہے کہ کیا آل انڈیا ثقافتی قوم پرستی اور مذہبی بالادستی پسند ایجنڈے پر مبنی کوئی سیاسی نظریہ کبھی واقعی ’علاقائی‘ یا لبرل ہو بھی سکتا ہے، یا پھر یہ ایک ایسا بنیادی تضاد ہے جسے وہ کبھی حل نہیں کر پائے گا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔