ستیہ نکیتن حادثہ کے بعد ایم سی ڈی نے 34 عمارتوں کو کیا منہدم، 17 جائیدادیں مقفل، 1243 پی جی کی ہوگی جانچ

انہدامی کارروائی 8 ستمبر کو شروع ہوئی جس دن ایم سی ڈی نے مختلف علاقوں میں 17 عمارتوں کو منہدم کیا۔ اُسی دن اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی 5 عمارتوں کو مقفل بھی کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز / وپن</p></div>
i

ستیہ نکیتن حادثہ کے بعد دہلی میں ایم سی ڈی کا زوردار بلڈوزر ایکشن دکھائی دے رہا ہے۔ جنوبی دہلی میں پی جی (پیئنگ گیسٹ) کے طور پر چل رہی عمارت گرنے سے 7 لوگوں کی موت نے انتظامیہ کی آنکھیں کھول دی ہیں، اور اب راجدھانی کے الگ الگ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات و خطرناک عمارتوں پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 2 دنوں میں ہی 12 زون میں ایم سی ڈی نے 34 عمارتوں پر انہدامی کارروائی کی ہے اور 17 عمارتوں کو مقفل کر دیا ہے۔

کارروائی کی ابتدا ایم سی ڈی نے 8 ستمبر کو الگ الگ علاقوں میں 17 عمارتوں کو منہدم کرنے سے شروع کی۔ اس کے ساتھ ہی اصولوں کی خلاف ورزی سے متعلق 5 عمارتوں کو مقفل کیا گیا۔ یہ کارروائی بلڈنگ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی سمیت کئی طرح کی خامیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ 9 ستمبر کو بھی یہ کارروائی جاری رہی۔ اس دوران ایم سی ڈی نے 22 عمارتوں کے مالکان کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا اور 4 انہدامی احکامات بھی پاس کیے۔ یعنی جن ملکیتوں میں اصولوں کی خلاف ورزی دیکھی گئی، ان کے خلاف فوری کارروائی شروع کی گئی اور آگے کا قانونی عمل بھی شروع ہو گیا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز جامع مسجد کے پاس ایک عمارت کے گراؤنڈ فلور کی 2 چھت کی پلیٹ اور ایک پارٹیشن وال توڑی گئی۔ بازار سیتارام کے سڑک پریم نارائن میں غیر قانونی تعمیر پر بھی کارروائی ہوئی۔ وِکاس نگر اور دوارکا سیکٹر 17 میں جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا، انھیں بھی منہدم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی رانا پرتاپ باغ میں تیسری منزل کی 4 آر سی سی چھت کی پلیٹ اور پہلی منزل کی ایک پلیٹ ہٹائی گئی۔ علاوہ ازیں ماڈل ٹاؤن کے سردار نگر میں 3 چھت کی پلیٹ توڑی گئی اور ان کا لوہے کا ڈھانچہ کاٹا گیا۔

اس درمیان ایم سی ڈی نے تقریباً 1243 ایسی عمارتوں کی شناخت کی ہے، جن میں پی جی چلائے جا رہے ہیں۔ ان عمارتوں میں تقریباً 24 ہزار لوگ مقیم ہیں۔ فی الحال ایم سی ڈی نے سروے کے ذریعہ ڈاٹابیس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یہ پتہ کیا جا سکے کہ رہنے کے لحاظ سے عمارتیں کتنی محفوظ ہیں۔ خاص طور سے 5 منزل سے زیادہ اونچی آر سی سی والی عمارتوں اور 4 منزل سے زیادہ اونچی ایسی عمارتوں کی جانچ ہو رہی ہے، جو اینٹ کی دیواروں پر کھڑی ہیں۔


جانچ کے بعد پی جی والی عمارتوں کو 4 زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلا زمرہ ’محفوظ‘، دوسرا ’معمولی مرمت کی ضرورت‘ والا، تیسرا ’بڑی مرمت کی ضرورت‘ والا اور چوتھا ’خطرناک‘۔ ایم سی ڈی نے افسران کو 10 ستمبر تک سروے پورا کرنے کی ہدایت دی ہے، یعنی آج یہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔ ستیہ نکیتن میں پیش آئے دردناک حادثہ کے بعد ایم سی ڈی نے دہلی کے مختلف علاقوں میں جس طرح کارروائی شروع کی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ اس کارروائی سے پی جی میں رہنے والے اشخاص بھی خوش نظر آ رہے ہیں۔