قومی خبریں

دہلی میں زرعی زمین کا سرکل ریٹ 25 کروڑ روپے فی ایکڑ کیا جائے: ڈاکٹر نریش کمار

دہلی کے کنجھاولا میں کسانوں کے دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر نریش کمار نے زرعی زمین کا سرکل ریٹ 25 کروڑ روپے فی ایکڑ کرنے، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو ملازمت اور ڈی ڈی اے پلاٹ دینے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>

تصویر پریس ریلیز

 

نئی دہلی: دہلی کے کنجھاولا میں زرعی زمین کا سرکل ریٹ بڑھانے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر کسان سنگھرش سمیتی کی جانب سے جاری غیر معینہ مدت کے دھرنے میں دہلی پردیش کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے شرکت کر کے کسانوں کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسان حکومت سے کوئی بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اور جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ان کی آواز اٹھتی رہے گی۔

کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریش کمار نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں زرعی زمین کا سرکل ریٹ 25 کروڑ روپے فی ایکڑ مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس خاندان کی زمین حکومت کی جانب سے حاصل کی جاتی ہے، اس خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت اور ایک ڈی ڈی اے پلاٹ دیا جانا چاہیے، تاکہ زمین سے متاثرہ خاندان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ کسان سنگھرش سمیتی نے اپنے مطالبات کے سلسلے میں 4 ستمبر کو جنتر منتر پر مہاپنچایت اور مہادھرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں کسان شرکت کرکے اپنے مطالبات کو مضبوطی سے حکومت کے سامنے رکھیں گے۔

کسانوں کی یکجہتی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر نریش کمار نے 1977-78 کی کسان تحریک کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کے بعد دہلی میں چودھری چرن سنگھ نے ایک بڑی کسان ریلی سے خطاب کیا تھا، جو اس وقت کسانوں کی طاقت اور اتحاد کی علامت بنی تھی۔ ان کے مطابق جب کسان متحد ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت کو بھی ان کی بات سننی پڑتی ہے۔

سرکل ریٹ سے متعلق سابقہ انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2008 میں سرکل ریٹ میں اضافے کے لیے ایسے ضابطے بنائے گئے تھے جن کے تحت ہر پانچ سال میں شرح میں اضافہ اور ہر سال مقررہ فیصد کے مطابق اضافہ کیا جانا تھا۔ تاہم 2013 میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ سرکل ریٹ مقرر کیے گئے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے دعویٰ کیا کہ گرین بیلٹ کے 48 گاؤں میں سرکل ریٹ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے فی ایکڑ مقرر کیا گیا، جبکہ دیگر علاقوں میں یہ شرح تین سے چار کروڑ روپے فی ایکڑ تک رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کون سی زمین گرین لینڈ ہوگی اور اس کا لینڈ یوز کیا ہوگا، یہ حکومت کے دائرۂ اختیار میں ہے، لیکن اس بنیاد پر زرعی زمین کے الگ الگ سرکل ریٹ مقرر کرنا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کی جانب سے کسانوں کی اس تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں اور پارٹی پوری قوت سے ان کے مطالبات کی حمایت کرے گی۔ ان کے مطابق دھرنے میں پہنچنے سے قبل انہوں نے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو سے بھی بات کی تھی، جنہوں نے کسانوں کی تحریک میں کانگریس کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے کسانوں کی جدوجہد کی مثال دیتے ہوئے جنگل میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کرنے والی ایک چھوٹی چڑیا کی کہانی بھی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو یہ پہچاننا ہوگا کہ ان کے سرکل ریٹ بڑھانے کے مطالبے کے ساتھ کون کھڑا ہے اور کون اس کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس حکومت کی جانب سے متعلقہ افسر کو لکھا گیا ایک خط موجود ہے، جس میں سرکل ریٹ نہ بڑھانے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس خط کا آئندہ انکشاف کریں گے اور متعلقہ افسر چاہیں تو ان سے اس کی نقل حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ کسانوں کی لڑائی صرف سرکل ریٹ بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کے حقوق اور مستقبل کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھیں اور اپنی آواز حکومت تک مضبوطی سے پہنچائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔