اسرائیل کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے لیے ’مَیڈ اِن انڈیا‘ ہتھیار...اشوک سوین
ایمنسٹی رپورٹ کے مطابق ہندوستان سے اسرائیل کو 2596 دفاعی کھیپیں بھیجیں۔ سرکاری و نجی کمپنیوں کی یہ سپلائی غزہ جنگ کے دوران ہندوستان کی خارجہ پالیسی، قانونی ذمہ داری اور عالمی ساکھ پر سوال اٹھاتی ہے

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ تحقیق نے غزہ جنگ کے تناظر میں ہندوستان اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات پر ایک انتہائی سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے۔ ’مَیڈ اِن انڈیا: دی سپلائی آف ویپنز اینڈ ایمونیشن ٹو اسرائیل‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 کے درمیان ہندوستان سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، فوجی پرزوں اور دیگر دفاعی سامان کی کم از کم 2,596 کھیپیں بھیجی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں مشین گنوں کے پرزے، 155 ملی میٹر کے دھماکہ خیز توپ کے گولے، ڈرون کے وار ہیڈز اور بکتر بند فوجی گاڑیوں کے اجزا شامل ہیں۔
ایمنسٹی کی تحقیق کی اہمیت صرف ان اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے ہندوستانی دفاعی برآمدات میں سرکاری اداروں کی موجودگی بھی سامنے رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مونی شنز انڈیا لمیٹڈ، جو ہندوستانی حکومت کی ملکیت ہے، اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کو ہائی ایکسپلوزو آرٹلری گولے فراہم کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ شعبے کی انڈو ایم آئی ایم، کلیانی سسٹمز، پی ایل آر سسٹمز اور الفا ایل سیک جیسی کمپنیاں بھی اسرائیلی دفاعی سپلائی چین کا حصہ رہی ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق ہندوستانی کمپنیوں نے اسرائیلی دفاعی شعبے سے وابستہ کمپنیوں کو کم از کم 3,90,516 فوجی درجے کے چھوٹے ہتھیاروں کے پرزے، 5,64,970 دھماکہ خیز ہتھیاروں کے اجزا اور 298 فوجی گاڑیوں کے پرزے فراہم کیے۔ تنظیم نے اپنی تحقیق میں ان اشیا کو بھی خارج کیا جو ممکنہ طور پر شہری استعمال کے لیے تھیں، جبکہ میزائل شکن دفاعی نظام سے متعلق بعض سامان کو بھی شمار نہیں کیا۔ اس لحاظ سے رپورٹ کا طریقۂ کار نسبتاً محتاط ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ہندوستان سے بھیجے گئے ہر گولے یا ہر وار ہیڈ کو غزہ میں تباہ ہونے والی کسی مخصوص عمارت سے جوڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایسے ملک کو فوجی سامان فراہم کرنا مناسب ہے جس کی کارروائیوں کے بارے میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ممکنہ ارتکاب کے حوالے سے مسلسل بین الاقوامی انتباہات سامنے آتے رہے ہیں؟
بین الاقوامی قانون کے حوالے سے بھی معاملہ معمولی نہیں۔ جنوری 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے متعلق جرائم کی روک تھام کے لیے متعدد عبوری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ مارچ اور مئی میں عدالت نے مزید اقدامات بھی کیے۔ یہ احکامات نسل کشی کے مقدمے میں حتمی فیصلہ نہیں تھے، لیکن عدالت نے فلسطینیوں کے تحفظ اور متعلقہ کنونشن کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کو واضح کیا تھا۔
اپریل 2024 میں نکاراگوا بنام جرمنی مقدمے میں عالمی عدالتِ انصاف نے جرمنی کے خلاف فوری عبوری اقدامات نافذ کرنے سے انکار ضرور کیا، لیکن اسی حکم میں اس نے تمام ریاستوں کو یاد دلایا کہ مسلح تنازع کے فریقوں کو ہتھیار منتقل کرتے وقت ان پر بین الاقوامی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں تاکہ ان ہتھیاروں کے ذریعے جنیوا کنونشن یا دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کا خطرہ کم کیا جا سکے۔ اس لیے ہندوستان کے لیے بھی سوال محض تجارتی نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔
ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ فلسطین کے ساتھ یکجہتی طویل عرصے تک ہندوستانی سفارت کاری کی نمایاں علامت رہی ہے۔ ہندوستان نے 1974 میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو فلسطینی عوام کا نمائندہ تسلیم کیا اور 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت بھی باضابطہ خارجہ پالیسی کا حصہ بنی رہی۔
مسئلہ یہ ہے کہ اب ہندوستان کا یہ توازن پہلے جیسا قابلِ اعتبار دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف وہ فلسطین کے حق میں سفارتی بیانات دیتا ہے، جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور دو ریاستی حل کی بات کرتا ہے، تو دوسری طرف اس کے دفاعی شعبے کی کمپنیاں اسرائیلی دفاعی صنعت کی سپلائی چین کا حصہ بن رہی ہیں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت کی براہِ راست ملکیت یا کنٹرول والی کمپنیاں بھی ان برآمدات میں شامل ہیں۔ اس سے یہ دلیل کمزور پڑتی ہے کہ اسرائیل کو فوجی سامان کی فراہمی محض نجی کاروباری اداروں کا معاملہ ہے۔
یہ تعلق صرف ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون گہرا ہوا ہے۔ ہندوستان اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی کا بڑا خریدار رہا ہے، جبکہ اب ہندوستانی دفاعی صنعت خود اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور برآمدی سپلائی چین میں داخل ہو رہی ہے۔ اس طرح تعلق یک طرفہ خریداری سے آگے بڑھ کر مشترکہ دفاعی پیداوار کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شفافیت کا بھی ہے۔ ایمنسٹی نے ہندوستان کے دفاعی برآمدی نظام میں انسانی حقوق کی واضح جانچ کے فقدان اور شفافیت کی کمی کی نشاندہی کی ہے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ نظام میں یہ بات پوری طرح واضح نہیں کہ کسی جنگ زدہ ملک کو فوجی سامان برآمد کرنے سے پہلے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے خطرے کی کتنی جامع جانچ کی جاتی ہے۔
یہ صورت حال ہندوستان کی عالمی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ہندوستان طویل عرصے سے ’اسٹریٹجک خود مختاری‘، نوآبادیاتی ورثے کی مخالفت اور عالمی جنوب کے مفادات کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ لیکن اگر وہ ایک ایسے ملک کو فوجی سپلائی جاری رکھتا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں، تو دوسرے ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کی اخلاقی اپیل کمزور پڑ سکتی ہے۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنا شاید ہندوستانی خارجہ پالیسی کے لیے کوئی آسان یا فوری راستہ نہیں۔ اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور فوجی تعاون کے حوالے سے ہندوستان کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔ اسی طرح ہندوستانی دفاعی صنعت کے لیے اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ پیداوار اور عالمی سپلائی چین میں داخل ہونا ایک تجارتی موقع بھی ہے۔ لیکن اقتصادی اور دفاعی مفادات بین الاقوامی انسانی قانون کی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کر سکتے۔
کم از کم اتنا ضرور کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو ہندوستانی ہتھیاروں اور فوجی پرزوں کی برآمدات پر آزادانہ اور شفاف نظرثانی کی جائے۔ حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے یہ واضح کرنا چاہیے کہ کون سی ہندوستانی کمپنیاں کیا سامان اسرائیلی اداروں کو فراہم کر رہی ہیں، ان اداروں کا اسرائیلی فوج کے ساتھ کیا تعلق ہے اور برآمدات کی منظوری کے وقت انسانی حقوق کے خطرات کا کس طرح جائزہ لیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہندوستان سے اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود، پرزوں، تکنیکی مدد اور متعلقہ دفاعی تعاون کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستانی حکومت چاہے اس مطالبے کو تسلیم کرے یا مسترد، اسے کم از کم اس سوال کا جواب ضرور دینا ہوگا کہ فلسطین کے بارے میں اس کی اخلاقی اور سفارتی پالیسی اس کے دفاعی برآمدی فیصلوں سے کیسے مطابقت رکھتی ہے۔
آخرکار مسئلہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ملک کے ساتھ تعلقات کی قیمت کیا ہونی چاہیے۔ اگر ہندوستان واقعی ایک ذمہ دار عالمی طاقت اور ’اسٹریٹجک خود مختاری‘ پر یقین رکھنے والا ملک ہے تو اسے اپنے معاشی اور دفاعی مفادات کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو بھی خارجہ پالیسی کا بنیادی معیار بنانا ہوگا۔
’مَیڈ اِن انڈیا‘ کا مطلب صرف ہندوستان میں تیار ہونے والی مصنوعات نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہندوستان کی اخلاقی ذمہ داری کی پہچان بھی جڑی ہونی چاہیے۔ غزہ کی تباہی کے پس منظر میں یہی وہ سوال ہے جس سے اب ہندوستانی حکومت زیادہ دیر تک نظریں نہیں چرا سکتی۔
(اشوک سوین سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعات ریسرچ کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
