ترقی کے لیے اپنی جڑوں سے جڑے رہنا ضروری: ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی

آچاریہ ہزاری پرساد دویدی کی 120ویں یوم پیدائش پر منعقدہ لیکچر میں ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی نے کہا کہ ترقی کے لیے اپنی جڑوں اور روایت سے جڑے رہنا ضروری ہے۔ پروفیسر نیرج کمار نے ان کے ادب پر روشنی ڈالی

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>
i

نئی دہلی: معروف ہندی ادیب اور آچاریہ ہزاری پرساد دویدی کے شاگرد ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی نے کہا ہے کہ زندگی میں ترقی اور پھلنے پھولنے کے لیے اپنی جڑوں اور روایت سے جڑے رہنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کو حال سے جوڑ کر ہی مستقبل کی طرف مؤثر انداز میں بڑھا جا سکتا ہے۔

وہ ہفتہ کو ساہتیہ اکادمی کے آڈیٹوریم میں آچاریہ ہزاری پرساد دویدی میموریل ٹرسٹ کی جانب سے آچاریہ دویدی کے 120ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ ’ہزاری پرساد دویدی کے تاریخی گلپ میں کلپ-سرشٹی‘ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کے دوران طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر وشوناتھ ترپاٹھی نے آچاریہ دویدی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت جی ’شَو سادھنا‘ کی بات کرتے تھے۔ ان کے مطابق ’شَو‘ ہمارے ماضی کی علامت ہے اور ماضی کو حال سے جوڑ کر ہی مستقبل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آچاریہ دویدی کے پورے ادبی فکر میں یہ تصور نمایاں ہے کہ انسان کا ایک قدم ماضی میں اور دوسرا مستقبل کی جانب بڑھتا ہے۔ روایت کو چھوڑ کر جدیدیت کی طرف بڑھنا ممکن نہیں، اس لیے آگے بڑھنے کے لیے تاریخ اور روایت کو سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کی راہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتی۔ چھوٹی موٹی ناکامیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بعض اوقات یہی ناکامیاں بڑی کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہیں۔


پروگرام کے کلیدی مقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نیرج کمار نے کہا کہ آچاریہ دویدی ’واقعے کے نہیں بلکہ وقوع پذیر ہونے والے عمل کے ادیب‘ تھے۔ انہوں نے آچاریہ دویدی کے ناولوں میں کلپ-سرشٹی، اساطیری شعور اور لوک عناصر کے گہرے باہمی تعلق پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بان بھٹ، نیونیا اور بھٹنی جیسے کرداروں کے حوالے سے آچاریہ دویدی کے ناولوں کی فکری اور تخلیقی جہتوں کو اجاگر کیا۔

پروگرام کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے شعبۂ ہندی کے سربراہ اور بین الاقوامی تعلقات کے ڈین پروفیسر انل رائے نے کی۔ انہوں نے کہا کہ آچاریہ دویدی کے ادب کو سمجھنے کے لیے صبر اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق پنڈت جی کی تخلیقی دنیا تاریخ سے تجاوز نہیں کرتی بلکہ تاریخ کے خالی مقامات کو پُر کرتی ہے۔

اس موقع پر سالانہ یادگار ’پونرنووا‘ کا بھی اجرا کیا گیا۔ تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر وید پرکاش، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ونے وشواس، راج کمل پرکاشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آمود مہیشوری سمیت بڑی تعداد میں ادیب، اساتذہ، طلبہ اور ادب کے شائقین موجود تھے۔

آچاریہ ہزاری پرساد دویدی میموریل ٹرسٹ کی صدر ڈاکٹر اپرنا دویدی نے مقررین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرسٹ کے خزانچی رتنیش مشرا نے ٹرسٹ کی ادبی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا، جبکہ سینئر صحافی اور کالم نگار اویناش چندر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔