
آئی اے این ایس
نئی دہلی: لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل، 2026 پر بحث آج دوسرے دن بھی جاری رہے گی۔ پہلے روز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طویل اور تلخ بحث کے بعد آج حکومت اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اور سوالات کا جواب دے گی، جبکہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی دوپہر تقریباً 12:30 بجے ایوان میں تقریر متوقع ہے۔
اس بل پر منگل کو تقریباً 10 گھنٹے بحث ہوئی، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے پیپر لیک، امتحانی نظام، طلبہ کے احتجاج، این ٹی اے کی کارکردگی اور تعلیمی اصلاحات سمیت مختلف امور پر اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔ بحث مکمل نہ ہونے پر ایوان کی کارروائی رات 11 بجے آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔
آج بحث کے دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے الزامات اور خدشات کا جواب دیا جائے گا۔ توقع ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات و پنشن ڈاکٹر جتیندر سنگھ حکومت کا مؤقف پیش کریں گے اور بل کی ضرورت و اہمیت پر تفصیلی جواب دیں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تقریر پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ امکان ہے کہ وہ حالیہ پیپر لیک کے واقعات، امتحانی بے ضابطگیوں، طلبہ کے احتجاج، روزگار اور تعلیمی نظام کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کریں گے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ صرف سخت سزائیں مقرر کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ امتحانات کے انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات اور جواب دہی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
مجوزہ لوک امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) (ترمیمی) بل، 2026 کا مقصد 2024 کے قانون کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بل میں امتحانی دھاندلی اور پیپر لیک میں ملوث افراد کے لیے دس سال تک قید، 10 کروڑ روپے تک جرمانہ، غیر قانونی اثاثوں کی ضبطی اور ایسے مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام جیسی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم منظم امتحانی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے گی اور متاثرہ طلبہ کو جلد انصاف فراہم کرے گی، جبکہ اپوزیشن کا اصرار ہے کہ امتحانی نظام کی خامیوں، متعلقہ اداروں کی جواب دہی اور شفافیت کے بغیر صرف سزا سخت کرنے سے پیپر لیک کے واقعات نہیں رکیں گے۔
آج کے پارلیمانی ایجنڈے میں اینٹی پیپر لیک بل کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل، 2026 بھی لوک سبھا میں پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026 پر بھی ایوان میں غور کیے جانے کا امکان ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔