قومی خبریں

’بہار میں بیٹیاں غیر محفوظ‘، لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے این ڈی اے حکومت کو بنایا ہدف تنقید

روہنی آچاریہ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’انصاف دلانا تو دور کی بات وزیرا علیٰ اور حکومت میں شامل ان کے اتحادیوں کے منہ سے ایسے معاملوں میں ہمدردی کے دو لفظ تک نہیں نکلتے۔‘‘

لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ
لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ تصویر سوشل میڈیا

لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بیٹیوں کے تحفظ سے متعلق نتیش کمار کی حکومت سے کچھ تلخ سوال پوچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماں-بہن-بیٹیوں کی زندگی، عصمت اور تحفظ داؤ پر ہے۔ ایسے میں نتیش کمار کس منہ سے ’سُشاسن‘ (اچھی حکمرانی) کا دعویٰ کرتے ہیں؟ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر ایک ہندی نیوز پیپر کی کٹنگ بھی شیئر کی، جس میں 12ویں کی طالبہ کی موت کا ذکر ہے۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ طالبہ کا قتل کر دیا گیا ہے۔ طالبہ کی موت کوچنگ کے چوتھے منزل سے گر کر ہوئی ہے اور وہ صرف 16 سال کی تھی۔

Published: undefined

روہنی آچاریہ نے ’ایکس‘ پر بیٹیوں کے تحفظ سے متعلق لکھا کہ ’’بے حساب عصمت دری، مشتبہ حالات میں بہن-بیٹیوں کی موت، پولیس کارروائی اور تفتیش کی آڑ میں معاملات کی پردہ پوشی اور مجرموں کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کرنا۔ یہی موجودہ بہار کے کمزور اور لاچار نظام حکومت کا حاصل ہے۔‘‘

Published: undefined

روہنی آچاریہ نے مزید لکھا کہ ’’بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت میں شامل لوگ جو خود پرستی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، بہار کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد اور ان کی انصاف کی فریاد نہیں سن سکتے۔ پوری دنیا میں جن گھناؤنے واقعات کی وجہ سے بہار کی بدنامی ہو رہی ہے وہ دکھائی نہیں دیتیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’انصاف دلانا تو دور کی بات وزیرا علیٰ اور حکومت میں شامل ان کے اتحادیوں کے منہ سے ایسے معاملوں میں ہمدردی کے دو لفظ تک نہیں نکلتے۔‘‘

Published: undefined

دوسری جانب بہار قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی رہنما نے ایوان کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’سمراٹ چودھری نے کہا تھا کہ 24 گھنٹے کے اندر مجرموں کو پکڑ کر سزا دلوائیں گے نہیں تو استعفیٰ دیں گے۔ وہ کہاں استعفیٰ دے رہے ہیں۔ روزانہ لڑکیوں کے قتل اور عصمت دری کے معاملے پیش آ رہے ہیں، لیکن یہ حکومت جرائم کو روک نہیں رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined