قومی خبریں

منی پور میں پھر تشدد، گولی باری اور آگ زنی کے بعد مزید دو اضلاع میں کرفیو نافذ، انٹرنیٹ خدمات معطل

پولیس کے مطابق مسلح افراد نے لٹن سریکھونگ گاؤں میں 8 سے زائد مکانات کو آگ کے حوالے کردیا اورکئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں گاؤں میں 30 سے ​​زیادہ مکانات اور دیگر املاک جل کرراکھ ہو چکی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>

فوٹو سوشل میڈیا

 

 منی پور میں ایک بار پھر تشدد بھڑکنے کے بعد ریاستی حکومت نے منگل کے روز اکھرول ضلع سے متصل دو پہاڑی اضلاع کانگ پوکپی اور کامجونگ میں انٹرنیٹ خدمات معطل کر دیں۔ پولیس افسران نے بتایا کہ اکھرول ضلع کے لٹن سریکھونگ گاؤں میں تازہ گولی باری اور آگ زنی کی وارداتیں سامنے آئی ہیں۔ یہ وارداتیں اس وقت ہوئیں جب دو تانگخول ناگا تنظیموں نےاکھرول اور پڑوسی کامجونگ اضلاع میں ککی لوگوں کی آمدورفت پر پابندی لگا دی۔

Published: undefined

پولیس افسر کے مطابق کچھ مسلح افراد نے لٹن سریکھونگ گاؤں میں 8 سے زائد مکانات (زیادہ ترخالی) کو آگ کے حوالے کردیا اور کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں گاؤں میں 30 سے ​​زیادہ مکانات اور دیگر املاک جل کرراکھ  ہو چکی ہیں۔ یہ تشدد مبینہ طور پر اس وقت شروع ہوا جب ککی برادری کے لوگوں نے تانگخول ناگا برادری کے ایک رکن پر حملہ کیا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ منگل کے روز جاری نوٹیفکیشن میں کمشنرکم سیکرٹری (ہوم) این اشوک کمار نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال اور انٹرنیٹ خدمات کے غلط استعمال کے امکانات کے پیش نظر تمام انٹرنیٹ اور ڈیٹا خدمات بشمول براڈ بینڈ، وی پی این اور وی ایس اے ٹی کو عارضی طور پر معطل/محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کامجونگ ضلع۔ پولیس افسر نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے حساس علاقوں میں مرکزی نیم فوجی دستوں سمیت اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

Published: undefined

اس دوران ایک دیگر نوٹیفکیشن میں محکمہ داخلہ نے کہا کہ اکھرول ضلع میں امن و امان کی غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر اس بات کا خدشہ ہے کہ سماج دشمن عناصر سوشل میڈیا پراشتعال انگیز تصاویر، پوسٹس اور ویڈیوز پھیلا سکتے ہیں جس سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اکھرول ضلع میں بھی 5 دنوں کے لیےانٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز کو معطل کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

منی پور پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ لٹن سریکھونگ گاؤں کے آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ شب شرپسندوں کچھ گھروں کو آگ لگا دی۔ تشدد کو روکنے کے لیے کرفیو کا نفاذ اور مناسب سکیورٹی فورسز کی تعیناتی سمیت احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ صورتحال اب کافی حد تک قابو میں ہے حالانکہ کشیدگی برقرار ہے۔ صورتحال کو سنبھالنے اور مختلف فورسز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے لٹن پولیس اسٹیشن میں ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ سینئر افسران گاؤں میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور زمینی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

Published: undefined

دریں اثناء اپوزیشن کانگریس پارٹی نے امن بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کیشم میگھ چندر سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ اکھرول ضلع کے لٹن گاؤں میں دو برادریوں کے درمیان تازہ ترین تشدد انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب امن اور باہمی افہام و تفہیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایسے واقعات معاشرے کو خوف اور غیر یقینی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ میگھچندر سنگھ نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی منی پور میں تشدد جاری رہنا شرمناک اور تشویشناک ہے نیز امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راتوں رات لٹن کے علاقے میں ناگا اور ککی دونوں برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مکانات کو نذرآتش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ صورتحال کتنی نازک ہے۔

Published: undefined

اتوار کی شام اور رات کو لٹن گاؤں میں ناگا اور ککی قبائلی گروپوں کے درمیان شدید پتھراؤ ہوا تھا جس کے بعد ضلع انتظامیہ حکم امتناعی نافذ کردیا تھا۔ حالات پر قابو پانے کے لیےسیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ اکھرول ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آشیش داس نے انڈین سول سیکورٹی کوڈ (بی این ایس ایس) 2023 کی دفعہ 163 کے تحت حکم امتناعی نافذ کرتے ہوئے کہا کہ معتبر ذرائع کی طرف سے امن کی ممکنہ خلاف ورزی کا انداشیہ ظاہر کیا گیا تھا۔ حکم کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر اگلے حکم تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined