
سپریا شرینیت، ویڈیو گریب
’’نریندر مودی اور بی جے پی یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہے، چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے، ہم وشو گرو ہیں، وغیرہ وغیرہ... اس کے ساتھ ہی ملک کا میڈیا، ہر ٹی وی چینل، ریڈیو، اخبار فوراً حکومت کے سُر میں سُر ملانے لگ جاتے ہیں، لیکن اسی گانے بجانے اور چکاچوندھ کے درمیان ملک کو بنانے والے محنت کش ملازمین، مزدوروں کے سامنے روٹی اور مستقبل کا بحران ہے۔ یہ لوگ اب کارپوریٹ اور حکومت کے استحصال سے اتنے مشتعل ہیں کہ لاٹھیاں کھاتے ہوئے بھی سڑک پر مظاہرہ کرنے کو مجبور ہیں۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے دیا ہے، جس کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔
Published: undefined
اس ویڈیو میں سپریا شرینیت مرکز کی مودی حکومت پر سخت تنقید کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور نوئیڈا میں مختلف کمپنیوں کے ملازمین کے ذریعہ کیے گئے جا رہے احتجاجی مظاہرہ پر تشویش بھی ظاہر کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ کہانی صرف نوئیڈا کی نہیں ہے، یہ کہانی گڑگاؤں، فرید آباد، دہلی، ممبئی جیسے ملک کے بیشتر شہروں کی ہے، جہاں ملازمین سے حقیقی معنوں میں بندھوا مزدوری کرائی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ابھی نوئیڈا کی ویڈیوز آ رہی ہیں، جہاں لوگ 10 ہزار کی تنخواہ پر گزشتہ 12-10 سالوں سے 12-12 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال تھوڑے دنوں پہلے آپ نے لکھنؤ کی ان تصویروں میں دیکھا تھا، جس میں سی ایم ہیلپ لائن میں کام کرنے والی خواتین رو رو کر بتا رہی تھیں کہ اس مہنگائی میں ان کا گزارہ 7000 روپے کی ملازمت میں نہیں ہو پا رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس ترجمان نے کچھ دوسرے شہروں کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’اس سے قبل ایسی ہی بات ملازمین نے فرید آباد اور گڑگاؤں میں اٹھائی تھی۔ ایسے میں ایک بات صاف ہے کہ حکومت کی غریب، مزدور مخالف پالیسیوں اور مہنگائی سے عوام عاجز آ چکی ہے۔ ایک مزدور جو روزانہ 12 گھنٹے پسینہ بہاتا ہے، جی توڑ محنت کرتا ہے، اسے مہینے کے آخر میں صرف 8 سے 10 ہزار روپے ملتے ہیں۔ جو 10 سال قبل ملتے تھے، وہی تنخواہ آج بھی مل رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’تنخواہ بڑھانے کے نام پر سال میں کسی کی تنخواہ 30 روپے، تو کسی کی 40 روپے بڑھی ہے۔ اس درمیان روم کا کرایہ، بچوں کی تعلیم کی فیس، راشن-تیل، دوائی سب کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ ابھی تو ان لوگوں کو گیس سلنڈر بھی 500-400 روپے کلو کے حساب سے خریدنا پڑھ رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
ملازمین کی حالت زار بیان کرنے کے بعد سپریا شرینیت ویڈیو میں کہتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’جہاں ایک طرف یہ ملازمین 10-8 ہزار روپے میں گزارہ کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف مودی متر اڈانی 1600 کروڑ روپے سے زیادہ روزانہ کما رہے ہیں۔ کیا یہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والی معیشت صرف ’دھنّا سیٹھوں‘ کے لیے ہے؟ کیا یہی ہے نریندر مودی کا ظالم ’امرت کال‘، جہاں ملک لوٹنے والا مالا مال اور ملک کو بنانے والا ہو رہا ہے کنگال؟‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مودی حکومت نے 4 لیبر کوڈ جلدبازی میں بغیر بات چیت اور غور و خوض کے نومبر 2025 سے نافذ کر کے کام کا وقت 12 گھنٹے تک بڑھا دیا۔ آج اسی کی بنیاد پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہر بار مودی حکومت کی کسی بھی پالیسی کا برا اثر ملازمین اور مزدوروں پر پڑتا ہے، جبکہ مودی جی کی آنکھوں کے تارے اڈانی جیسے لوگوں کی تو موج ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ویڈیو کے آخر میں ملازمین و مزدوروں کے تئیں اپنی ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر حکومت نے وقت رہتے توجہ نہیں دی تو آنے والے وقت میں حالات مزید خراب ہوں گے، کیونکہ تقریروں سے پیٹ نہیں بھرتا، جملوں سے فیملی نہیں چلتی۔ بجائے مسئلہ کا حل تلاش کرنے اور ان لوگوں کے لیے درست پالیسیاں بنانے کے برسراقتدار لوگوں نے اسے پہلے ہی بین الاقوامی سازش قرار دے دیا ہے۔ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہونے کی بھی بے معنی دلیلیں دی جا رہی ہیں۔ گویا کہ اپنی محنت کا صحیح محنتانہ مانگنا، استحصال کے خلاف آواز اٹھانا، اپنا حق مانگنا ایک سازش ہے؟‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ان سب میں ایک امید کی شمع بھی ہے۔ لوگ اب اُکتا چکے ہیں اور فرضی ’اچھے دن‘ کی جگہ ملازم و محنت کش طبقہ اپنی محنت کا حق مانگ رہے ہیں۔ کچھ بھی کہیے، ملک نے انگڑائی لینا تو شروع کر دیا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز