قومی خبریں

’مصنوعی اکثریت‘ تیار کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے، سچن پائلٹ کا بی جے پی پر حملہ

سچن پائلٹ نے الزام لگایا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ اور ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرا کے مصنوعی اکثریت پیدا کرنے کی کوشش جمہوری اور آئینی اقدار کے منافی ہے، جسے عوام قبول نہیں کریں گے

<div class="paragraphs"><p>سچن پائلٹ / سوشل میڈیا</p></div>

سچن پائلٹ / سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ اور ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرانے کے معاملے پر مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے عوام نے حکومت چلانے کے لیے اکثریت دی ہے، لیکن دو تہائی اکثریت کا مینڈیٹ نہیں دیا۔ ایسے میں عوام کی طرف سے نہ دی گئی اکثریت کو مصنوعی طور پر تیار کرنے کی کوشش جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

Published: undefined

سچن پائلٹ نے کہا کہ جس قانون سازی کی تجویز پہلے مسترد ہو چکی تھی، اسے دوبارہ ایک مصنوعی اکثریت کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش دراصل سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے، جس کی اجازت ملک کے عوام نے کبھی نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو توڑ کر، ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل کرا کے اور مصنوعی اکثریت تیار کر کے آئینی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کے عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ حلقہ بندی کے عمل کے لیے ایک طے شدہ آئینی ڈھانچہ موجود ہے۔ پہلے مردم شماری ہونی چاہیے، اس کے بعد کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور پھر حلقہ بندی کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ سچن پائلٹ کے مطابق مقررہ طریقہ کار کے بغیر حلقہ بندی کرنا صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو غیر آئینی، غیر اخلاقی اور دستور کے منافی ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کس نوعیت کے طریقے اختیار کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن آئینی اداروں اور جمہوری روایات کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو عوام برداشت نہیں کریں گے۔

Published: undefined

سچن پائلٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے بیس ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل ہونے کی قیاس آرائیوں اور شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے چھ ارکان پارلیمنٹ کے دوسری جانب جانے کی خبروں پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ان واقعات کو جمہوری عمل کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے اس طرح کے الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

سچن پائلٹ نے زور دے کر کہا کہ آئینی طریقہ کار اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے اور کسی بھی قسم کی مصنوعی اکثریت پیدا کرنے کی کوشش عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined