روسی ساحل پر ڈرون حملہ، 3 بچوں سمیت 7 افراد ہلاک
مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ گیلینڈژک کے پاس واقع آرکھیپو-اوسیپوکا ساحل پر پیش آیا۔ موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے ساحل پر بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے۔

روس کے بحیرۂ اسود (بلیک سی) کے ساحل پر واقع مشہور سیاحتی مقام ’گیلینڈژک‘ کے قریب اتوار کے روز ایک ساحل پر ڈرون حملہ ہوا، جس میں کم از کم 7 افراد کی موت ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں مزید 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روس نے اس حملے کا ذمہ دار یوکرین کو ٹھہرایا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ گیلینڈژک کے پاس واقع آرکھیپو-اوسیپوکا ساحل پر پیش آیا۔ موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے ساحل پر بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے۔ کراسنودار کرائے کی علاقائی حکومت نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 بچے شامل ہیں۔ زخمی 40 افراد میں سے 21 لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جب کہ 19 لوگوں کو ابتدائی علاج کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے روسی مقامی میڈیا کو بتایا کہ دھماکے سے پہلے انہیں مشین گن جیسی آوازیں سنائی دی تھیں۔ اس کے فوراً بعد زور دار دھماکہ ہوا۔
ایک سیاح نے بتایا کہ ساحل پر موجود لوگوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع بھی نہیں ملا اور دھماکہ ہو گیا۔ ایک دیگر عینی شاہد نے کہا کہ دھماکہ ان کے بچوں کے سامنے ہوا۔ کراسنودار کرائے کے گورنر بنجامن کوندراتیف نے اس حملے کا ذمہ دار یوکرین کو ٹھہرایا۔ حالانکہ یوکرین کی فوج یا کیف حکومت کی جانب سے اس حملے پر ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ ڈرون ساحل تک کیسے پہنچا اور حملہ کن حالات میں ہوا، اس بارے میں ابھی صورتحال واضح نہیں ہے۔ بی بی سی کے ایک تجزیہ کار کے مطابق ویڈیو میں سنائی دینے والی فائرنگ جیسی آوازیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ممکنہ طور پر روسی فضائی دفاعی نظام ساحل تک پہنچنے سے پہلے ڈرون کو مار گرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ امکان بھی ہے کہ الیکٹرانک جیمنگ کی وجہ سے ڈرون کا راستہ تبدیل ہو گیا ہو۔
یہ حملہ اس علاقے کے پاس ہوا ہے، جہاں مبینہ لگژری کمپلیکس ’پوتن پیلیس‘ موجود ہے۔ یہ کمپلیکس روس کے مرحوم حزب اختلاف کے لیڈر ’الیکسی نوالنی‘ کی بدعنوانی کے خلاف قائم تنظیم کی جانچ کے بعد خبروں میں آیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کمپلیکس گیلینڈژک اور آرکھیپو-اوسیپوکا کے درمیان واقع ہے۔ حملے کے بعد روس کی وزارت خارجہ نے مغربی ممالک پر بھی سخت تنقید کی۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ’ماریا زاکھارووا‘ نے روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ سے کہا کہ ناٹو اور یورپی یونین پہلے دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کی بات کرتے تھے، لیکن اب وہ بین الاقوامی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی ممالک ایسی سرگرمیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
