
الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
شادی شدہ مردوں کے درمیان لیو ان ریلیشن شپ کے بارے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے قانونی اور سماجی بحث کو نئی سمت دے دی ہے۔ محض کچھ دنوں کے اندر جاری ہونے والے دو مختلف فیصلوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ قانون اور اخلاقیات کے درمیان حد آخرکہاں طے ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک رشتے کا نہیں بلکہ شخصی آزادی، ازدواجی حقوق اور سماجی منظوریوں کے درمیان ٹکراؤ کا بن گیا ہے۔ چنانچہ دونوں فیصلوں نے مختلف تشریحات پیش کیں جو اب بحث کا موضوع بن چکی ہیں۔
Published: undefined
ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے20 مارچ کو سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص بغیر طلاق کے تیسرے شخص کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شخصی آزادی لامحدود نہیں ہوتی ہے بلکہ دوسرے کے حقوق کی پابند ہوتی ہے۔ جسٹس وویک کمار سنگھ کی بنچ نے کہا کہ شوہر یا بیوی کو اپنے شریک حیات کے ساتھ رہنے کا قانونی حق ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر کوئی شخص اس حق کو نظر انداز کر کے لیو ان ریلیشن شپ میں رہتا ہے تو یہ دوسرے فریق کے حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور عدالت ایسے رشتے کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی۔
Published: undefined
پہلے فیصلے کے محض 5 دن بعد25 مارچ کو ڈویژن بنچ نے ایک الگ معاملے میں بالکل مختلف نقطہ نظر پیش کیا۔ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی بنچ نے کہا کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ عورت کے ساتھ اس کی رضامندی سے لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہا ہے تو اسے قانون کے تحت جرم نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاشرے کے اخلاقی تاثرات اور ذاتی رائے عدالت کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ جب تک کسی فعل کو قانون کے ذریعے مجرم قرار نہیں دیا جاتا، تب تک صرف اخلاقی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
Published: undefined
اس معاملے میں خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں کہا کہ وہ اپنی مرضی سے لیو ان ریلیشن شپ میں رہ رہی تھی لیکن اسے اپنے خاندان کی جانب سے جان کو خطرات لاحق تھے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے شکتی واہنی بمقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو دونوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغ افراد کی زندگی اور آزادی کی حفاظر کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان متضاد فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ لیو ان ریلیشن شپ جیسے حساس معاملات پر قانون کے اندر بھی مختلف آراء موجود ہیں اور مستقبل میں اس موضوع پر مزید واضح رہنما اصولوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined