انسانی حقوق پر امریکی خاموشی بدلتی عالمی سیاست کی علامت

ٹرمپ کے دورۂ چین نے ظاہر کیا کہ موجودہ سفارت کاری میں انسانی حقوق تقریباً غائب رہے۔ اویغور اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر خاموشی، چین کے بڑھتے اعتماد اور امریکہ کی بدلتی ترجیحات کی عکاس ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

google_preferred_badge

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین نے عالمی سفارت کاری کے بدلتے ہوئے مزاج کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور جغرافیائی سیاست جیسے موضوعات تو مرکزی حیثیت رکھتے تھے، مگر انسانی حقوق تقریباً مکمل طور پر غائب رہے۔ یہی خاموشی اس دورے کا سب سے اہم اور معنی خیز پہلو ہے، کیونکہ یہ نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

امریکی اخلاقی قیادت کا تصور زائل

ماضی میں امریکی صدور، خواہ وہ بل کلنٹن ہوں جارج بش یا باراک اوبامہ، چین کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کے مسئلے کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور اٹھاتے تھے۔ تبت، سنکیانگ، ہانگ کانگ، مذہبی آزادی اور سیاسی قیدیوں کے معاملات امریکی بیانیے کا مستقل حصہ رہے۔ اگرچہ واشنگٹن اکثر معاشی مفادات کو ترجیح دیتا تھا، پھر بھی انسانی حقوق کو امریکی ’اخلاقی قیادت‘ کے تصور سے الگ نہیں کیا جاتا تھا۔

لیکن ٹرمپ دور میں یہ روایت واضح طور پر کمزور پڑتی دکھائی دی۔ ٹرمپ کی سفارت کاری بنیادی طور پر ’لین دین‘ پر مبنی رہی ہے، جہاں اصولوں سے زیادہ فوری معاشی اور تزویراتی مفادات اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی سیاست میں انسانی حقوق اکثر ایک ثانوی یا غیر ضروری موضوع کے طور پر سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ ملاقاتوں میں تجارتی خسارے، امریکی صنعت، نایاب معدنیات، اور عالمی طاقت کے توازن پر تو تفصیلی گفتگو ہوئی، مگر انسانی آزادیوں کا ذکر تقریباً ندارد تھا۔

یہ خاموشی اس لیے بھی زیادہ معنی خیز ہے کیونکہ چین میں انسانی حقوق کی صورتحال گزشتہ چند برسوں میں مزید سنگین ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن، وکلا، صحافی اور سیاسی ناقدین مسلسل ریاستی دباؤ، نگرانی اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے چینی کارکن “ریاست مخالف سرگرمیوں” یا “قومی سلامتی” کے مبہم الزامات کے تحت قید ہیں۔ سول سوسائٹی تقریباً مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں آ چکی ہے اور آزاد اظہارِ رائے کے لیے جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے۔


نسلی اقلیتوں کے ساتھ چینی رویہ

اسی طرح مذہبی اور نسلی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے ساتھ چین کے رویے نے عالمی سطح پر شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔ شمال مغربی خطے سنکیانگ میں چین نے “انسدادِ انتہا پسندی” کے نام پر ایک وسیع نگرانی اور حراستی نظام قائم کیا، جس کے تحت اندازاً دس لاکھ تک اویغور اور دیگر ترک النسل مسلم اقلیتوں کو نام نہاد “ری ایجوکیشن کیمپوں” میں رکھا گیا۔ ان کیمپوں میں نظریاتی تربیت، جبری سیاسی وفاداری، مذہبی شناخت سے دستبرداری، اور ثقافتی انضمام کی رپورٹس سامنے آئیں۔ متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور سابق قیدیوں نے جبری مشقت، خاندانوں کی علیحدگی اور مذہبی آزادیوں پر سخت پابندیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے بھی کہا کہ سنکیانگ میں چین کی پالیسیاں “انسانیت کے خلاف جرائم” کے زمرے میں آ سکتی ہیں، اگرچہ بیجنگ ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور انہیں مغربی پروپیگنڈا قرار دیتا ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ضروری تھے۔ لیکن عالمی سطح پر ایک بڑی تعداد اسے ثقافتی اور مذہبی شناخت کو دبانے کی منظم کوشش سمجھتی ہے۔

امریکہ کی بدلتی ترجیحات

یہ سوال اہم ہے کہ ایسے حساس معاملات امریکی قیادت کی چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں تقریباً غائب کیوں رہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی اپنی بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ ٹرمپ کا ’امریکہ فرسٹ‘ نظریہ خارجہ پالیسی کو نظریاتی اقدار سے ہٹا کر خالص قومی مفادات تک محدود کر دیتا ہے۔ اس سوچ کے تحت اگر انسانی حقوق کا مسئلہ براہِ راست امریکی معاشی یا سیکورٹی مفادات سے نہ جڑا ہو تو اسے ترجیح نہیں دی جاتی۔

دوسری جانب چین کا بڑھتا ہوا معاشی اور سفارتی اعتماد بھی اس تبدیلی کا اہم سبب ہے۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین اب ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جو مغربی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی شرائط پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کی سپلائی چین، تجارت اور سرمایہ کاری میں چین کے مرکزی کردار نے مغربی ممالک کی تنقیدی آوازوں کو بھی محتاط بنا دیا ہے۔ بیجنگ جانتا ہے کہ بہت سی حکومتیں انسانی حقوق پر سخت مؤقف اختیار کرنے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔


عالمی توازن میں تبدیلی کی علامت

عالمی سیاست کا موجودہ ماحول بھی اس رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ روس کے ساتھ کشیدگی، یوکرین جنگ، مغربی ایشیا کے بحران، اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال نے واشنگٹن کو چین کے ساتھ مکمل محاذ آرائی سے گریز پر مجبور کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی ساز اب اکثر اصولی مؤقف کے بجائے ’انتظامی توازن ‘ کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس خاموشی کے طویل المدتی اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ اگر امریکہ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے بیانیے سے مزید پیچھے ہٹتا ہے تو اس کی عالمی اخلاقی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ وہ ممالک، کارکن اور تحریکیں جو کبھی واشنگٹن کو آزادی اور جمہوریت کی علامت سمجھتے تھے، اب اسے صرف ایک مفاداتی طاقت کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف امریکی ’سافٹ پاور‘ کمزور ہو گی بلکہ عالمی سطح پر آمرانہ طرزِ حکمرانی کو بھی مزید تقویت مل سکتی ہے۔

یوں ٹرمپ کا دورۂ چین صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں گہری تبدیلی کی علامت ہے۔ انسانی حقوق کی غیر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں معاشی طاقت، تزویراتی مفادات اور قومی خود غرضی، نظریاتی اصولوں پر غالب آتے جا رہے ہیں۔ لیکن آخر میں ایک بڑا سوال باقی رہ جاتا ہے: کیا واقعی امریکی طاقت زوال پذیر ہے، یا پھر عالمی سطح پر امریکہ کے کم ہوتے اثر و رسوخ کی اصل وجہ خود ٹرمپ کا طرزِ عمل اور ان کی غیر روایتی سیاست ہے؟ شاید اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں عالمی نظام کی نئی شکل متعین کرے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔