
لالو پرساد یادو / آئی اے این ایس
آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ کیس میں لالو فیملی کو آج ’سپریم جھٹکا‘ لگا ہے۔ 10 ستمبر (جمعرات) کو آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو، ان کے بیٹے تیجسوی یادو اور اہلیہ رابڑی دیوی سمیت 9 ملزمین کے خلاف راؤز ایونیو کورٹ نے الزامات طے کر دیے۔ اس معاملے میں سرلا گپتا، لارا پروجیکٹس اور سجاتا ہوٹلز سمیت دیگر ملزمین بھی شامل ہیں۔ عدالت نے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل ٹنڈر سے متعلق منی لانڈرنگ کے اس معاملے میں الزامات طے کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 3 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
عدالت نے اس آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ معاملے میں 7 ملزمین کو الزامات سے بری بھی کیا ہے۔ عدالت کے مطابق ایسا نہیں لگتا کہ لالو یادو کے خلاف جانچ سیاسی طور پر متاثر تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ لارا پروجیکٹ کو جس طرح فائدہ پہنچا، وہ لالو یادو کے کردار پر شبہ پیدا کرتا ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ پر تیجسوی یادو نے میڈیا کے سامنے کچھ بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے بس اتنا کہا کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے اور عدالت میں ہی فیصلے ہوں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بات عدالت میں مضبوطی کےس اتھ رکھیں گے۔
عدالت کی جانب سے کیے گئے تبصرہ کے بعد بہار بی جے پی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ پارٹی ترجمان نیرج کمار شرما نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی عدالت نے آئی آر سی ٹی سی منی لانڈرنگ معاملے میں الزامات طے کر دیے ہیں۔ یہ کوئی سیاسی الزام نہیں، بلکہ عدالت کا حکم ہے۔ اس خاندان کی یہی روایت رہی ہے۔ لالو یادو کے ریلوے وزیر رہتے ہوئے کئی لوگوں کی زمین ہضم کر لی گئی۔ اب انہیں اس کا حساب دینا پڑے گا۔
نیرج کمار شرما نے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’تیجسوی یادو جو نوجوان چہرہ بن کر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، پہلے وہ وضاحت دیں کہ انہوں نے کتنی زمین ہضم کی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ملک کی عدالت انہیں سزا سنانے والی ہے۔ عدالت ان کے برے اعمال کی سزا ضرور دے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔