مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے موہن حکومت کو بھیجا نوٹس، بالاگھاٹ میں متعدی امراض کے باعث 30 سے زائد بچوں کی موت پر مانگا جواب
ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے بعد ریاستی حکومت کے محکمہ صحت، محکمہ خواتین و اطفال کی ترقی اور بالاگھاٹ کے ضلع مجسٹریٹ اور کلکٹر سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بالاگھاٹ ضلع میں متعدی امراض کے باعث بیگا قبائلی طبقہ کے 30 سے زائد بچوں کی موت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے۔ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس وویک روسیا اور جسٹس پردیپ متل کی ڈویژن بنچ نے سماعت کے بعد ریاستی حکومت کے محکمہ صحت، محکمہ خواتین و اطفال کی ترقی اور بالاگھاٹ کے ضلع مجسٹریٹ اور کلکٹر سمیت دیگر کو نوٹس جاری کر جواب طلب کیا۔
غورطلب ہے کہ نرسنگھ پور ضلع کے رہائشی انشل تیواری نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر بالاگھاٹ میں متعدی امراض کے باعث 30 سے زائد بچوں کی موت کے معاملے میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ بچوں کو مناسب علاج نہیں مل رہا ہے اور 50 بستروں کی گنجائش والے اسپتال میں تقریباً 400 بچوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں ڈویژن بنچ نے عرضی پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ محض اخباروں میں شائع خبروں کی بنیاد پر مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنا مناسب نہیں ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ ایسے سنگین معاملے میں پہلے موقع پر جا کر حقیقی صورتحال کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ اس کے بعد عدالت نے عرضی گزار کو ہدایت دی تھی کہ وہ بالاگھاٹ کے متاثرہ علاقوں میں جا کر حقیقی صورتحال کا براہ راست جائزہ لیں، حقائق کی جانچ پڑتال کریں اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ ایڈوکیٹ ابھیشیک پانڈے اور ایڈوکیٹ اتل شکلا نے بدھ (9 ستمبر) کو سماعت کے دوران ڈویژن بنچ کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر عرضی گزار نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ بھی حلف نامے کے ساتھ ڈویژن بنچ کے سامنے پیش کی گئی۔
عرضی گزار نے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں لگے ہینڈپمپ سے پیلا پانی آ رہا ہے، بچوں اور خواتین کو کئی ماہ سے وقت پر غذائیت پر مبنی کھانا نہیں دیا جا رہا ہے اور علاقے میں بڑے پیمانے پر گندگی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہی وجوہات کے باعث انفیکشن پھیل رہا ہے اور بیماریوں سے بچوں کی موت کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق 30 سے زائد اموات کے بعد اب جا کر انتظامیہ بیدار ہوئی ہے اور اسپتالوں میں بستر کی تعداد بڑھائی گئی ہے، علاقے میں صحت کی سہولیات بہتر کی گئی اور صاف صفائی کا انتظام کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے نوٹس جاری کر جواب طلب کیا ہے۔ عرضی پر آئندہ سماعت 18 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
