
لالو پرساد یادو (فائل)، تصویر آئی اے این ایس
نئی دہلی: سابق مرکزی وزیرِ ریل اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کو جمعہ کے روز عدالت سے بڑا جھٹکا لگا، جب دہلی کی راؤز ایونیو میں واقع خصوصی عدالت نے لینڈ فار جاب معاملے میں لالو یادو، ان کے اہلِ خانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم سنایا۔ یہ معاملہ ریلوے میں درجہ چہارم کی نوکریوں کے عوض زمین حاصل کرنے سے متعلق ہے، جسے عدالت نے ایک منظم سازش قرار دیا ہے۔
Published: undefined
عدالت کے مطابق ابتدائی شواہد کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ لالو یادو اور ان کے خاندان کی جانب سے وسیع پیمانے پر سازش رچی گئی۔ عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں شامل مواد سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ لالو یادو کے قریبی معاونین نے نوکریوں کے بدلے زمین کے حصول میں شریکِ سازش کے طور پر کردار ادا کیا۔
عدالت نے لالو یادو اور دیگر کی جانب سے دائر بریت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے۔ عدالتی ریمارکس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات کے پختہ اشارے ملتے ہیں کہ ملزمان نے سرکاری عہدے سے الگ ہو کر ایک مجرمانہ منصوبے کے تحت کام کیا اور آئینی اختیارات اور صوابدید کا غلط استعمال کیا گیا۔
Published: undefined
اس معاملے میں عدالت نے مجموعی طور پر 41 افراد کے خلاف الزامات طے کیے ہیں۔ ان پر بدعنوانی کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 13(1)(ڈی) کے ساتھ دفعہ 13(2) کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ تاہم عدالت نے 51 ملزمان کو بری کرنے کا بھی حکم دیا، کیونکہ چارج شیٹ کے مطابق ان کے خلاف خاطر خواہ ثبوت دستیاب نہیں پائے گئے۔
ادھر الزامات طے ہونے کے بعد راشٹریہ جنتا دل کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے کہا کہ جو لوگ سیاسی طور پر لالو خاندان کا مقابلہ نہیں کر پا رہے، وہ جانچ ایجنسیوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے الزامات طے کیے ہیں اور اس پورے معاملے کا جواب قانونی دائرے میں رہتے ہوئے دیا جائے گا، جبکہ جانچ ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال کا الزام بھی برقرار رہے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined