
جے رام رمیش / سوشل میڈیا
کانگریس نے مودی حکومت کے ذریعہ منریگا کی جگہ لائے گئے ’وِکست بھارت-جی رام جی‘ (وی بی-جی رام جی ایکٹ 2025) کے خلاف اپنے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کو رفتار دے دی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کو مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لوگوں سے اس ’وی بی-جی رام جی ایکٹ‘ کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ بل دسمبر 2025 میں پارلیمنٹ سے پاس ہوا اور صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کے بعد قانون بن گیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ یہ ایکٹ منریگا کو کمزور کرتا ہے اور دیہی مزدوروں کے آئینی حقوق پر حملہ کے مترادف ہے۔
Published: undefined
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’منریگا بچاؤ سنگرام ملک کے 2.5 لاکھ گرام پنچایتوں اور کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کی لائف لائن بن چکی منریگا منصوبہ پر حکومت نے بلڈوزر چلا دیا ہے۔ اسی کے خلاف یہ ملک گیر جدوجہد روزگار و اجرت کے حقوق اور جوابدہی کے آئینی حق کی بحالی کے لیے ہے۔ آپ بھی اس تحریک میں شامل ہوں۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ جے رام رمیش کا یہ ’ایکس‘ پوسٹ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ تحریک کا حصہ ہے، جو 10 جنوری 2026 سے شروع ہوا ہے اور 25 فروری تک چلے گا۔ کانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ سے پنچایت سطح تک احتجاج کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں چوپال، ریلیاں، اُپواس (روزہ) اور بیداری پروگرام شامل ہیں۔ ساتھ ہی کانگریس نے ایک رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں اجے ماکن کنویز ہیں اور جے رام رمیش جیسے لیڈر شامل ہیں۔
Published: undefined
کانگریس کا کہنا ہے کہ ’وِکست بھارت-جی رام جی‘ بل میں روزگار کی گارنٹی صرف نام کی ہے۔ منریگا میں 100 دنوں کا کام قانونی حق تھا، مرکزی حکومت 90 فیصد فنڈ فراہم کرتی تھی اور پنچایتوں کو کام کرنے کا اختیار تھا۔ نئے بل میں 125 دنوں کے روزگار کا دعویٰ ہے، لیکن مرکزی حکومت کے فنڈ کا حصہ 60 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ریاستوں پر بوجھ پڑے گا۔ کام مرکزی حکومت طے کرے گی، پنچایتوں کا کردار کم ہوگا۔ ساتھ ہی کانگریس نے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانے کو توہین آمیز قرار دیا ہے۔ بل کی مخالفت میں کانگریس تحریک چلا کر گاؤں والوں کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز