قومی خبریں

جامعہ طلبہ یونین انتخابات کا اعلان: کانگریس کا خیرمقدم، عمران پرتاپ گڑھی نے اسے طلبہ کے عزم اور جدوجہد کی جیت قرار دیا

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے اعلان کا کانگریس نے خیرمقدم کیا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی اور ادت راج نے اسے طلبہ کی جدوجہد کی جیت قرار دیا، جبکہ سی پی ایم نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا

<div class="paragraphs"><p>عمران پرتاپ گڑھی / آئی اے این ایس</p></div>

عمران پرتاپ گڑھی / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: کانگریس نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اسے احتجاج کرنے والے طلبہ کے عزم، حوصلے اور جدوجہد کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کی تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن بالآخر اسے طلبہ کے سامنے جھکنا پڑا۔

عمران پرتاپ گڑھی نے جمعہ کو خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جامعہ کے تمام طلبہ کو مبارک باد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ جس طرح اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے تھے اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، وہ ان کے عزم کی مثال ہے۔ خاص طور پر طالبات کی جانب سے جس طرح حمایت کا اظہار کیا گیا، وہ اپنے آپ میں تاریخی تھا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سب سے پہلے طلبہ کی حمایت کے لیے جامعہ پہنچے تھے۔ تاہم، ان کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ اور رجسٹرار کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے کے فیصلے کو انہوں نے بچکانہ حرکت قرار دیا۔ پرتاپ گڑھی کے مطابق، وہ عام لباس میں آٹو رکشہ کے ذریعے جامعہ پہنچے اور پیدل کیمپس میں داخل ہو کر احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی اور انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

اپنے خلاف درج ایف آئی آر پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ انتظامیہ اس وقت انہیں گرفتار بھی نہیں کر سکی تھی، لیکن دو تین دن بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے عدالت اور تفتیش کے دوران نمٹا جائے گا۔

پرتاپ گڑھی نے یونیورسٹی کیمپس میں متنازعہ نعروں کی تحریر کے معاملے پر بھی انتظامیہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نعرے طلبہ نے نہیں لکھے تھے، بلکہ احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے جامعہ انتظامیہ نے دوسروں کے ساتھ مل کر ایک سازش کے تحت انہیں وہاں لکھوایا تھا۔ ان کے مطابق، انتظامیہ کی تمام کوششوں کے باوجود طلبہ کی پرامن تحریک کامیاب رہی اور اسے انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔

انہوں نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے ملک بھر میں شروع کی گئی ستیہ گرہ تحریک کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کا اثر طلبہ پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے بھوک ہڑتال میں شامل این ایس یو آئی کے طلبہ کو خصوصی طور پر مبارک باد دی۔

کانگریس رہنما ادت راج نے بھی طلبہ کی جدوجہد کو انتخابات کے اعلان کا اصل سبب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ کے حوصلے اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انتظامیہ کو غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی نہیں کرنی چاہیے تھیں، لیکن بالآخر اسے انتخابات کرانے کا اعلان کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

ادھر سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان بریٹاس نے بھی طلبہ کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں واقع ایک اہم یونیورسٹی کے طلبہ کو گزشتہ دو دہائیوں سے طلبہ یونین بنانے کے بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق، جامعہ میں انتخابات کا اعلان صرف وہاں کے طلبہ ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی طلبہ برادری کے لیے خوشی کا موقع ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔