’اے یو اسمال فائنانس‘ اور ’وجئے سیلس‘ پر سائبر حملہ، کروڑوں ہندوستانی صارفین کا ڈاٹا لیک!

سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ وجئے سیلز کے صارفین اور کمپنی سے متعلق ڈاٹا ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، ساتھ ہی بینک کو ڈاٹا عام کرنے کی کھلی دھمکی دی گئی ہے۔

سائبر حملہ، تصویر آئی اے این ایس
i

دیوالی کے تہوار کے موسم میں جہاں ایک طرف لوگ بڑے پیمانے پر آن لائن خریداری کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف سائبر مجرموں نے ہندوستانی کمپنیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ تازہ معاملہ ملک کے مشہور ’اے یو اسمال فائنانس بینک‘ اور مشہور الیکٹرانکس ریٹیل چین ’وجئے سیلس‘ سے متعلق ہے۔ ہیکرز نے ان دونوں بڑی کمپنیوں کے نظام میں نقب لگا کر کروڑوں ہندوستانی صارفین کا ڈاٹا چرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ وجئے سیلز کے صارفین اور کمپنی سے متعلق ڈاٹا ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے، ساتھ ہی بینک کو ڈاٹا عام کرنے کی کھلی دھمکی دی گئی ہے۔ اس بڑے سائبر حملے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد عام لوگوں کی ذاتی معلومات اور ان کی محنت کی کمائی پر بڑا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔


سائبر سیکورٹی پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ’ہیک میناک‘ کی رپورٹ کے مطابق ’اسکارلیٹ گروپ‘ نامی ایک ہیکر گروپ نے ’اے یو اسمال فائنانس بینک‘ کے نظام کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہیکرز نے بینک کو دھمکی دی ہے کہ اگر ان کی شرائط نہیں مانی گئیں تو وہ صارفین کا تمام ذاتی ڈاٹا لیک کر دیں گے۔ ہیکر گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس صارفین کی کے وائی سی دستاویزات، پین اور آدھار کارڈ جیسے شناختی دستاویزات، کریڈٹ رپورٹس، بینک اسٹیٹمنٹ، قرض کے فارم اور دستخط شدہ معاہدے موجود ہیں۔

یہ معاملہ صرف صارفین تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہیکرز نے بینک کے اندرونی نظام میں بھی دخل اندازی کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بینک ملازمین کی تفصیلات، لاگ اِن ہسٹری، انشورنس کے کاغذات اور آڈٹ لاگز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ ڈارک ویب پر اس کے لیے باقاعدہ ایک کاؤنٹ ڈاؤن ٹائمر بھی چلایا گیا ہے۔


دوسرا بڑا جھٹکا الیکٹرانکس شوروم چین ’وجئے سیلس‘ کو لگا ہے۔ ’ڈارک ویب انفارمر‘ کی اطلاع کے مطابق ڈارک ویب پر ’شائنی مونٹانا‘ نامی ایک صارف نے وجئے سیلس کی سپر ایڈمنسٹریٹر رسائی فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے۔ اس کی قیمت 25 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 21 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ ہیکر نے ثبوت کے طور پر کمپنی کے ایڈمن ڈیش بورڈ کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے ہیں۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس رسائی کے ذریعہ 30 لاکھ سے زیادہ شاپنگ آرڈرز کا ریکارڈ، 15 ہزار ملازمین کا ڈاٹا اور تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار وینڈرز کے بلنگ ریکارڈ حاصل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کی ادائیگیوں کی تفصیلات، بینک ٹرانسفر کی معلومات، اسٹاک کی تفصیلات اور کمپنی کی مالیاتی رپورٹس بھی ہیکرز کے قبضے میں ہیں۔ ہیکر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہ جب چاہے کمپنی کے نظام میں تبدیلی کر سکتا ہے۔


بینک اور ریٹیل اسٹور پر ہونے والے ان سائبر حملوں کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں وہ بینکنگ فراڈ کا شکار نہ ہو جائیں۔ آپ کو بتا دیں کہ جب کسی صارف کا آدھار، پین نمبر، بینک اسٹیٹمنٹ اور خریداری کی ادائیگیوں کی تفصیلات سائبر ٹھگوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں تو وہ ان کا استعمال کئی طرح کے آن لائن فراڈ میں کر سکتے ہیں۔ ٹھگ آپ کی شناخت چُرا کر آپ کے نام پر فرضی قرض لے سکتے ہیں۔ وہ نیا بینک اکاؤنٹ بھی کھول سکتے ہیں یا بینک افسر بن کر آپ کو فشنگ کال کر سکتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس آپ کے حقیقی لین دین اور پرانے آرڈرز کی درست معلومات ہوں گی، اس لیے آپ آسانی سے ان کے جھانسے میں آ سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔