قومی خبریں

کانگریس نے 2027 کے بعد پنجاب میں منریگا کو از سر نو شروع کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کا عزم کیا ظاہر

بھوپیش بگھیل نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کا اصل ارادہ منریگا کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ منریگا کی جگہ لینے والا نیا قانون غریبوں و پسماندہ افراد کے حقوق چھیننے کے لیے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘،&nbsp;<a href="https://x.com/INCPunjab">@INCPunjab</a></p></div>

تصویر ’ایکس‘، @INCPunjab

 

کانگریس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ 2027 کے بعد پنجاب میں منریگا کو از سر نو شروع کیا جائے گا۔ اس تعلق سے چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ اور پنجاب کانگریس کے انچارج بھوپیش بگھیل نے آج اپنے بیان میں کہا کہ ’’2027 میں پنجاب میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد پارٹی ریاست میں منریگا کو از سر نو شروع کرنے کے لیے خصوصی انتظام کرے گی۔‘‘

Published: undefined

دراصل کانگریس نے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے تحت جمعہ کے روز بالاچور اور سمرالہ میں دو ریلیاں نکالیں، جن میں نواں شہر اور لدھیانہ اضلاع شامل ہیں۔ پارٹی قائدین نے کارکنوں کے درمیان مکمل اتحاد پر بھی زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ کانگریس پارٹی عوام کی خدمت کے لئے پرعزم ہے۔ بھوپیش بگھیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر بی جے پی حکومت 2029 تک منریگا کو دوبارہ شروع نہیں کرتی ہے تو کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کی صورت میں مرکز کی کانگریس حکومت اسے دوبارہ شروع کرے گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کانگریس غریبوں اور دلتوں کی بہبود اور فلاح کے لیے پابند عہد ہے۔ انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اڈانی اور امبانی جیسے چند منتخب دوستوں کے لیے کام کر رہی ہے، جنہیں بی جے پی حکومت سب کچھ دے رہی ہے۔

Published: undefined

بھوپیش بگھیل نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کا اصل ارادہ اس منصوبہ کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا اور یہ کہ منریگا کی جگہ لینے والا نیا قانون غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے حقوق چھیننے کے لیے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بی جے پی حکومت نے فنڈ کی تقسیم کے نظام کو تبدیل کیا ہے، جس کا فیصلہ پہلے گاؤں اور پنچایتوں میں ہوتا تھا لیکن اب دہلی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’حقوق پر مبنی قانون کو خیرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘

Published: undefined

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پی سی سی صدر امریندر سنگھ راجہ وڈنگ نے کہا کہ بی جے پی اور عآپ ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں۔ بی جے پی نے اب منریگا کو ختم کر دیا ہے، لیکن عآپ پہلے ہی اسے نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے لدھیانہ کی مثال دی، جہاں منریگا کے تحت آنے والے 1.21 لاکھ خاندانوں میں سے صرف 12 خاندانوں کو 100 دن کا کام ملا تھا۔ راجہ وڈنگ نے حریفوں کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ کانگریس پارٹی منقسم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اپوزیشن پارٹیاں بشمول بی جے پی اور عآپ کے پاس کانگریس کے خلاف کچھ نہیں ہے اس لیے اب وہ پارٹی کے اندر گروپ بندی کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

Published: undefined

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پرتاپ سنگھ باجوہ نے کہا کہ منریگا کا آغاز 2005 میں کانگریس نے تمام سیاسی پارٹیوں سے مشورہ کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اسے پارلیمنٹ میں پاس کرانے سے پہلے اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس کی صدارت بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے کی تھی۔ انہوں نے عآپ پر پنجاب کے وسائل کو لوٹنے کا الزام بھی عائد کیا اور بتایا کہ کس طرح پنجاب کے دریاؤں سے ریت کو لوٹا جا رہا ہے۔ کیجریوال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریت کی کانکنی سے پنجاب کی آمدنی 20,000 کروڑ روپے سالانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ یہ سارا پیسہ کہاں گیا؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined