قومی خبریں

میگھالیہ: کانگریس کا حکومت سازی کا دعوی، گورنر کو خط سونپا

شمال مشرقی ریاست میگھالیہ میں کانگریس سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ دیر رات پارٹی رہنماؤں نے گورنر سے ملاقات کی اور حکومت سازی کا دعوی پیش کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

کانگریس کے جنرل سکریٹری سی پی جوشی اور میگھالیہ کانگریس کے صدر ونسینٹ پالا نے دیر رات گورنر گنگا پرساد سے ملاقات کی اور حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر دیا۔ کانگریس کی طرف سے گورنر کو خط سونپ دیا گیا ہے جس کے مطابق میگھالیہ میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اس لئے اسے دستور کے مطابق جلد حکومت سازی کی دعوت ملنی چاہئے۔ کانگریس کا دعوی ہے کہ وہ طے شدہ مدت میں اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دیگی۔

کانگریس کو میگھالیہ میں 21 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور پارٹی لیڈران نہیں چاہتے کہ وہاں بھی گوا اور منی پور کی طرح بی جے پی جوڑ توڑ کر کے حکومت بنا لے۔

ایک طرف جہاں جوشی اور پالا نے گورنر سے ملاقات کی تو دوسری طرف خصوصی طور پر میگھالیہ بھیجے گئے قدآور رہنما احمد پٹیل، کمل ناتھ اور مکل واسنک دیگر پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نمائندگان سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔

Published: undefined

میڈیا رپورٹوں کے مطابق کمل ناتھ نے کہا کہ ہم نے گورنر کو خط سونپ دیا ہے جس میں کانگریس کو حکومت سازی کے لئے دعوت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے بعد کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر آئی ہے اور دوسری پارٹیوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ کمل ناتھ کے مطابق کانگریس میگھالیہ میں حکومت سازی کے حوالہ سے پوری طرح مطمئن ہے۔

میگھالیہ کی 60 سیٹوں والی اسمبلی میں کانگریس اکثرت سے تھوڑا پیچھے رہ گئی۔ اسے 21 سیٹیں حاصل ہوئی جبکہ اکثریت کے لئے 31 سیٹیں درکار ہیں ۔ نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی ) کو 19 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ این پی پی نے بی جے پی سے علیحدہ چناؤ لڑا تھا لیکن وہ بی جے پی سے اتحاد کر کانگریس کو اقتدار سے باہر کر سکتی ہے۔ نارتھ ایسٹ ڈیموکریٹک الائنز (این ای ڈی اے)میں این پی پی اور بی جے پی اتحادی ہیں۔ بی جے پی کو 2 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور وہ اتحاد کے لئے تیار نظر آ رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined