قومی خبریں

پٹرول-ڈیزل پالیسی، او این جی سی اور حکومت کی نیت پر کانگریس نے اٹھائے سوال

شکتی سنگھ گوہل نے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن نہرو پر پی ایم مودی اکثر تنقید کرتے ہیں، دراصل انہی نے ملک کو پٹرول، ڈیزل اور گیس کے شعبہ میں خود کفیل بنانے کی بنیاد رکھی۔

<div class="paragraphs"><p>شکتی سنگھ گوہل / ویڈیو گریب</p></div>

شکتی سنگھ گوہل / ویڈیو گریب

 

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن شکتی سنگھ گوہل نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب سخت تنقید کی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف ٹرانسپورٹ شعبہ اور کسان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی توانائی سے متعلق خود کفالت بھی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی، سرکاری پالیسیوں اور او این جی سی کے کام کاج پر کئی سنگین سوالات بھی اٹھائے۔

Published: undefined

پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ حال ہی میں وہ گجرات کے سوراشٹر خطے کے دورے پر تھے جہاں ان کی ملاقات ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ کچھ افراد سے ہوئی۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے شکایت کی کہ جب وہ اپنے ٹرکوں میں ڈیزل بھروانے جاتے ہیں تو انہیں صرف 25 لیٹر ڈیزل فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ ان کے ٹرک طویل فاصلے طے کرتے ہیں، اس لیے اتنی کم مقدار میں فراہم کیا جانے والا ڈیزل بہت جلد ختم ہو جاتا ہے اور اس سے ان کے کام کاج میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

Published: undefined

شکتی سنگھ گوہل کے مطابق جب انہوں نے اس معاملے پر کچھ پٹرول پمپ مالکان سے بات کی تو انہیں بتایا گیا کہ اوپر سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ڈیزل کی فروخت کم کی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسانوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کو گاڑیوں میں تو ڈیزل دیا جا رہا ہے، لیکن گیلن یا ڈبوں میں ڈیزل فراہم کرنے پر پابندی جیسی صورت حال پیدا کر دی گئی ہے۔ اگر کسی صورت میں گیلن میں ڈیزل دینا بھی پڑتا ہے تو انتہائی محدود مقدار میں دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کسان شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔

Published: undefined

شکتی سنگھل گول نے پی ایم مودی پر عوام کے لیے الگ اور خود کے لیے الگ پالیسی اختیار کرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے مہاتما گاندھی سے متعلق ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ گاندھی جی کے پاس گئی اور کہا– باپو، میرا بیٹا آپ کو بھگوان کی طرح مانتا ہے۔ آپ اس سے کہیے کہ یہ گڑ نہ کھائے۔ گاندھی جی نے جواب دیا– اگلے ہفتہ آنا، میں اس سے کہہ دوں گا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ایک ہفتہ بعد جب خاتون دوبارہ آئی تو گاندھی جی نے بچے کو گڑ کھانے سے منع کیا اور بتایا کہ یہ اس کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ جب خاتون نے پوچھا کہ یہ بات پہلے بھی کہی جا سکتی تھی تو گاندھی جی نے جواب دیا کہ– میں خود ایک ہفتہ پہلے تک گڑ کھاتا تھا۔ جب میں نے کھانا بند کیا، تب میں نے آپ کے بیٹے کو بھی منع کیا۔‘‘ اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے شکتی سنگھ گوہل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مودی گجرات آئے، کئی ریلیوں سے خطاب کیا اور لوگوں کو مشورہ دیا کہ پٹرول-ڈیزل کا کم استعمال کریں، بیرونِ ملک سفر کم کریں اور زیادہ سے زیادہ بسوں سے سفر کریں۔ لیکن چند گھنٹوں بعد وہ خود بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی باتوں اور عمل میں بڑا فرق موجود ہے۔

Published: undefined

شکتی سنگھ گوہل نے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن نہرو پر پی ایم مودی اکثر تنقید کرتے ہیں، دراصل انہی نہرو نے ملک کو پٹرول، ڈیزل اور گیس کے میدان میں خود کفیل بنانے کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نہرو نے 1955 میں اپنے ویژن کے تحت ’آئل اینڈ نیچرل گیس ڈائریکٹوریٹ‘ کی شروعات کی تھی اور کیشو دیو مالویہ کو اس کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس کے بعد 14 اگست 1956 کو ’آئل اینڈ نیچرل گیس کمیشن‘ یعنی او این جی سی کا قیام عمل میں آیا۔

Published: undefined

گوہل نے کہا کہ ملک میں گھریلو سطح پر دستیاب پٹرول، ڈیزل اور گیس کا تقریباً 70 فیصد حصہ او این جی سی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1959 میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنا کر او این جی سی کو قانونی حیثیت دی گئی، جبکہ راجیو گاندھی کے دور میں یہ ادارہ مزید مستحکم اور خود کفیل ہوا۔ کانگریس لیڈر نے آئل فیلڈز سے متعلق ایک تکنیکی معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق جب کسی آئل فیلڈ میں کنواں تیار کیا جاتا ہے تو اس کی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے مخصوص مقدار میں کیمیائی عمل سے گزارا گیا پانی داخل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سائنسی عمل ہے جو کنوؤں کی صحت بہتر رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ شکتی سنگھ گوہل نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے ملک کی 3 اہم آئل فیلڈز میں، جہاں سے گھریلو سطح پر تقریباً 59 فیصد پٹرول، ڈیزل اور گیس حاصل ہوتی ہے، پانی کے انجیکشن کی مقدار میں 20 سے 70 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں ملک کو ایک سال کے دوران 3.690 ایم ایم ٹی کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق ممبئی ہائی میں پانی کے انجیکشن میں 53 فیصد، نیلم فیلڈ میں 42 فیصد اور ہیرا فیلڈ میں 78 فیصد کمی کی گئی۔ شکتی سنگھل گوہل نے بتایا کہ او این جی سی خود ہر سال اس عمل کے لیے منصوبہ تیار کرتی ہے اور استعمال ہونے والا پانی سمندر سے لے کر فلٹریشن اور کلورینیشن کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ یعنی مودی حکومت بدعنوانی بھی اس طرح کرتی ہے کہ عوام کو پتہ ہی نہیں چل پاتا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined